جوبلی ہلز قبرستان کا معاملہ تعطل کا شکار، تمام محکمہ جات کے ساتھ مشترکہ اجلاس سے مسئلہ کی یکسوئی ممکن
حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود ‘ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اور محکمہ مال کے عہدیداروں کی ناتجربہ کاری کے علاوہ عدم معلومات کے ساتھ ساتھ تلنگانہ وقف بورڈ کے تجربہ کار عملہ سے مشاورت کے بغیر کئے جانے والے جوبلی ہلز قبرستان سے متعلق تمام فیصلوں میں حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبودجناب محمد اظہر الدین اگر محکمہ مال ‘ محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ وقف بورڈ کے سرکردہ عہدیداروں اور ذمہ داروں کے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے جوبلی ہلز کے مسلمانوں سے کئے گئے قبرستان کے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے اقدامات کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اس مسئلہ کو حل کیاجاسکتا ہے لیکن جوبلی ہلز کے مسلمانوں کے لئے قبرستان کے مسئلہ پر ’’غیر ذمہ دار‘‘ افراد کی جانب سے کئے گئے اعلانات کے نتیجہ میں ریاستی حکومت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور یہ معاملات عدالت میں چیالنج کئے جانے لگے ہیں ۔حکومت اگر جوبلی ہلز کے مسلمانوں کے لئے قبرستان کے معاملہ میں سنجیدہ ہے تو حکومت کوتمام نزاعات سے پاک اراضی قبرستان کے لئے تلنگانہ وقف بورڈ کے توسط سے حوالہ کرنی چاہئے تاکہ مسلمانوں سے ضمنی انتخابات کے دوران کئے گئے وعدہ کو پورا کیا جاسکے۔ پیلی گنبد بورا بنڈہ‘ یوسف گوڑہسے متصل اراضی جوسروے نمبر127/1 میں موجود ہے حوالہ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ان احکامات کا جائزہ لینے پر ہی یہ بات واضح ہورہی ہے کہ یہ حوالگی نیک نیتی سے نہیں کی گئی تھی اور سابق میں جس انداز میں ایرہ گڈہ قبرستان جو کہ قدیم قبرستان ہے اس کی دیوار کو منہدم کرتے ہوئے راستہ حاصل کرنے کی عجلت میں کی گئی کوشش کے نتیجہ میں وہ معاملہ بھی عدالت میں پہنچ چکا ہے جبکہ ضمنی انتخابات سے قبل الکا پور میں قطب شاہی مسجد کے تحت موجود اراضی کی حوالگی کا معاملہ بھی محکمہ دفاع کے ساتھ تنازعہ کے نتیجہ میں جوں کا توں رہ گیا ہے۔ شیخ پیٹ ڈویژن کے عوام کے لئے مسجد کے تحت موجود موقوفہ اراضی کے قبرستان کے لئے انتخاب اور حوالگی کے معاملہ میں کئے جانے والے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے دوران محکمہ دفاع نے حوالگی سے عین قبل قبضہ حاصل کرلیا جبکہ اس قبرستان کی حوالگی میں ناکامی کے بعد حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے مسلمانوں کو ایرہ گڈہ قبرستان کے راستہ کی کشادگی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا اور صبح کی اولین ساعتوں میں قبرستان کی عقبی دیوار کو منہدم کرتے ہوئے راستہ کی کشادگی کا اعلان کردیا گیا لیکن اس کے فوری بعد مقامی عوام کی جانب سے مسئلہ کو فرقہ وارانہ نوعیت کا بنانے کی کوشش اور ہنگامہ آرائی کے بعد یہ معاملہ عدالت سے رجوع ہوگیا اور اس قبرستان کی اراضی کا جن لوگوں سے تنازعہ چل رہا ہے وہ خود بھی اس مقدمہ میں فریق بنتے ہوئے اس اراضی کو متنازعہ بناچکے ہیں اور حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدہ کے مطابق 31ڈسمبر 2025 سے قبل جوبلی ہلز کے مسلمانوں کے لئے قبرستان کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنانے کی کوشش کے دوران جو کاروائی کی گئی وہ بھی قانونی رسہ کشی کا شکار ہوچکی ہے۔ پیلی گنبد سے متصل اراضی کو قبرستان کے لئے حوالہ کرنے کے لئے احکامات کی اجرائی عمل میں لائی گئی تھی اس سلسلہ میں منعقدہ اجلاس میں نہ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود موجود تھے اور نہ ہی صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ موجود تھے بلکہ ریاستی وزیر مال مسٹر پی سرینواس ریڈی کے ہمراہ ’غیر ذمہ دار‘ افراد نے اجلاس منعقد کرتے ہوئے یہ دعویٰ شروع کردیا تھا کہ قبرستان کے لئے اراضی حوالہ کی جاچکی ہے جبکہ جس اراضی کو حوالہ کیاگیا تھا ان احکامات میں ہی محکمہ مال نے اس بات کی صراحت کردی تھی کہ مذکورہ اراضی کی ملکیت کا تنازعہ عدالت میں زیر دوراں ہے اور حوالگی کا مکمل انحصار مقدمہ کے فیصلہ پر ہوگا اس کے علاوہ محکمہ مال نے جو احکام جاری کئے ہیں ان میں یہ بھی تاکید کی گئی تھی حوالہ کردہ اراضی کو اندرون ایک برس استعمال کیا جائے بصورت دیگر یہ اراضی کی تخصیص و حوالگی قانونی طور پر کالعدم قرار دے دی جائے گی۔ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے مسلمانوں کو جس طرح سے گمراہ کیا جارہا ہے اگر اس سلسلہ کو فوری طور پر ترک کرنے کے لئے ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہرالدین مداخلت نہیں کرتے ہیںتو ایسی صورت میں ریاست بھر میں مسلمانوں کی ناراضگی کا حکومت کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔3