محکمہ رجسٹریشن سے حکومت کو 10 دن میں 78 کروڑ کی آمدنی

   

Ferty9 Clinic

28 ہزار جائیدادوں کا رجسٹریشن، جاریہ سال دس ہزار کروڑ کی آمدنی کا نشانہ
حیدرآباد ۔18۔ مئی(سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کی جانب سے محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کی سرگرمیوں کے آغاز کے سبب سرکاری خزانہ کو فائدہ ہوا ہے ۔ گزشتہ 10 دنوں میں حکومت کو محکمہ سے 78 کروڑ کی آمدنی حاصل ہوئی اور 8 مئی سے اب تک 28 ہزار جائیدادوں کا رجسٹریشن ہوا ہے ۔ لاک ڈاون میں رئیل اسٹیٹ شعبہ بری طرح متاثر ہوا تھا اور محکمہ رجسٹریشن کی خدمات کی بحالی سے رئیل اسٹیٹ شعبہ میں امید پیدا ہوئی ہے کہ بہت جلد اس شعبہ کی سرگرمیاں بحال ہوجائیں گی۔ سمنٹ اور اسٹیل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کے سبب تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ریاستی حکومت نے محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کیلئے 2020-21 ء میں 10,000 کروڑ آمدنی کا نشانہ مقرر کیا ہے اور تاحال 91 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ رجسٹریشن کی سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ لاک ڈاون کے آغاز کے سبب رجسٹریشن کا عمل متاثر ہوا تھا اور حکومت کی جانب سے خدمات کی بحالی کے ساتھ ہی زیر التواء رجسٹریشن کا آغاز ہوا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایک ماہ بعد حقیقی صورتحال سامنے آئے گی اور فی الوقت لوگ پرانے معاہدات کی بنیاد پر زیر التواء رجسٹریشن کروا رہے ہیں۔ لاک ڈاون سے قبل روزانہ کم از کم 6000 ڈاکیومنٹس کا رجسٹریشن کروایا جاتا تھا اور یہ تعداد گھٹ کر 3,500 ہوچکی ہے۔ لاک ڈاؤن سے قبل محکمہ کو روزانہ 25 کروڑ کی آمدنی تھی جو ان دنوں 10 تا 13 کروڑ ہوچکی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کاروباری اپنے پرانے معاہدات کی عاجلانہ تکمیل کر رہے ہیں تاکہ مزید کسی قانونی پیچیدگی سے بچ سکیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک ماہ میں رئیل اسٹیٹ کے حقیقی موقف کا پتہ چلے گا ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رجسٹریشن کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ گزشتہ سال محکمہ کو 7,200 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی، اسی دوران رئیل اسٹیٹ سے وابستہ افراد نے مرکز اور ریاستی حکومت سے رئیل اسٹیٹ کیلئے مختلف رعایتوںکا مطالبہ کیا ہے ۔ سمنٹ کی قیمتوں میں فی بیاگ 400 روپئے کا اضافہ ہوچکا ہے تو سابق میں 220 روپئے تھا۔ رئیل اسٹیٹ ڈیولپرس اسوسی ایشن نے حکومت سے مانگ کی کہ قیمتوں میں کمی کے علاوہ جی ایس ٹی میں رعایت دی جائے ۔