محکمہ صحت میں مخلوعہ جائیدادوں پر بہت جلد تقررات

   

مدہول میں دواخانہ کی عمارت کی سنگ بنیاد تقریب اور جلسہ عام سے ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ کا خطاب

مدہول: محکمہ صحت میں خالی جائیدادوں کو بہت جلد پر کیا جائے گا حکومت تلنگانہ ریاست میں عوامی صحت کے لئے سنجیدہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار ٹی ہریش راؤ ریاستی وزیر صحت و وزیر خزانہ نے مدہول میں 8 کروڑ کی لاگت سے30 بستروں کے دواخانہ تعمیر ہونے والے عمارت کی سنگ بنیاد سے متعلق بسوا گارڈن مدہول میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ فلاح و بہبود کے میدان میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے ۔کے سی آر نے ریاست تلنگانہ کوبرق رفتاری کے ساتھ ترقی کی جانب گامزن کر رہے ہیں جس سے اپوزیشن پارٹیاں بوکھلاہٹ کاشکار ہوکر جھوٹے الزامات لگانے میں مصروف ہے جبکہ بی جے پی اور کانگریس جن ریاستوں میں برسر اقتدار ہے ان ریاستوں میں ترقی کوسوں دور ہے ۔ریاستی وزیر اے اندرا کرن ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت تمام طبقات کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے گی جی وٹھل ریڈی رکن اسمبلی مدہول نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حلقہ مدہول کی ترقی کے لئے خصوصی بجٹ منظور کرنے اور باسر کوبیر میں ایمبولینس کی منظوری کا مطالبہ جس پر ٹی ہریش راو ریاستی وزیر صحت نے تیقن دیا کہ بہت جلد باسر کوبیر کو ایمبولینس فراہم کی ۔وزیر خزانہ ٹی ہریش راؤ، ریاستی محصولات اور چیریٹی کے وزیر الولا اندراکرن ریڈی، مدھول کے ایم ایل اے جی وٹھل ریڈی، ایم ایل سی ڈانڈے وٹھل، دہلی کے سابق ترجمان وینوگوپالچاری نے باسر ریلوے اسٹیشن کے چھترپتی شیواجی چوک پر شیواجی مہاراج کے مجسمہ کی نقاب کشائی انجام دی واضح رہے کہ شہر مدہول میں ہریش راو کے دورے کے پیش نظر اہم مقامات پر فلیکسی چسپاں کی گئی تھی جس پر اردو زبان کو نظر انداز کردیا گیا جس سے اردو داں طبقہ میں ناراضگی دیکھی گئی ۔اس تقریب میں مدھول کے ایم ایل اے وٹھل ریڈی، ایم ایل سی ڈینڈی وٹھل، ضلع پریشد کے چیرمین کے وجئے لکشمی، سابق مرکزی وزیر وینوگوپال چاری، ضلع کلکٹر مشرف علی فاروقی، ایڈیشنل کلکٹر ہیمنت بورکھرے، ڈسٹرکٹ میڈیکل ہیلتھ آفیسرز، ایم پی پی عائشہ افروز خان، پی سید آصف الدین زرعی مارکیٹ کمیٹی نائب صدر نشین اعجاز احمد خان سید خالد مخدوم کوآپشن ممبر اے ایم سی چیرمین کرشنا اے سی ایس کے چیرمین وینکٹیش گوڈ، کسان کوآرڈینیٹنگ کمیٹی صدر رام ریڈی، مقامی سرپنچ وینکٹا پور راجندر، پی اے سی ایس کے سابق چیئرمین سریندر ریڈی، مختلف محکموں کے افسران، مقامی قائدین، عوامی نمائندے اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی ۔