محکمہ صحت کی معاشی حالت ابتر ، پی جی ڈاکٹرس کو تنخواہوں کی عدم اجرائی

   

ڈاکٹرس مالی مشکلات کا شکار ، محکمہ کا رویہ افسوسناک ، کورونا مریضوں کی خدمات کے باوجود حوصلہ شکنی
حیدرآباد۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ صحت کی بھی معاشی حالت ابتر ہوچکی ہے! ریاستی حکومت کے کئی محکمہ جات میں مالیہ کی عدم موجودگی اور حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب محکمہ جات کو درپیش مسائل کی فہرست میں اب محکمہ صحت بھی شامل ہوچکا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے 6ماہ قبل کورونا وائرس کے دور میں میڈیکل تعلیم مکمل کرنے والے بالخصوص پی جی کی تعلیم مکمل کرنے والے ڈاکٹرس کے تقررات کا اعلان کیا تھا اور ان کی خدمات شہر حیدرآباد کے مختلف دواخانوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج و معالجہ کے لئے حاصل کی گئیں ۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ جو ڈاکٹرس پی جی تک تعلیم مکمل کرچکے ہیں انکے راست تقررات عمل میں لائے جائیں گے اور انہیں ماہانہ 70ہزار مشاہرہ کے علاوہ 10 فیصد اعزازیہ ادا کیاجائے گا لیکن ان کے تقررات کے بعد سے اب تک بھی ان ڈاکٹرس کو ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے مسائل کی کوئی سنوائی کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جن ڈاکٹرس کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے ان میں بیشتر خواتین ہیں اور ان ڈاکٹرس کی خدمات ایم این جے ‘ عثمانیہ دواخانہ ‘ چیسٹ ہاسپٹل ‘ نیلوفر دواخانہ کے علاوہ دیگر دواخانوں میں حاصل کی جا رہی ہیں اور ان ڈاکٹرس نے ریاستی وزیر صحت مسٹر ایٹالہ راجندر کو بھی اس بات سے واقف کروایا کہ ان کی تنخواہوں کی اجرائی عمل میں نہ لائے جانے کے سبب وہ معاشی مشکلات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ان کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکا ہے جو کہ محکمہ صحت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کو آشکار کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈاکٹرس کی قلت کو دور کرنے کے لئے راست تقررات اور انہیں بہتر معاوضہ کی فراہمی کے اقدامات کو یقینی بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم گذشتہ 6ماہ سے ان ڈاکٹرس کی تنخواہوں کی عدم اجرائی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ صحت کو بھی محکمہ بلدی نظم و نسق کی طرح دیکھا جانے لگا ہے اور ڈاکٹرس کی خدمات کی سراہنا کرنے کے بجائے ان کی تنخواہوں کی عدم اجرائی کے ذریعہ انہیں ہراساں کیا جا رہاہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کئے گئے ان تقررات کے بعد بجٹ میں جو اضافہ کیا جانا چاہئے تھاوہ نہیں کیا جاسکا ہے اسی لئے ان ڈاکٹرس کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا ہے لیکن محکمہ صحت کے عہدیدار مسئلہ سے محکمہ فینانس کو واقف کروا چکے ہیں اور توقع ہے کہ جاریہ ماہ کے دوران اس مسئلہ کو حل کرلیا جائے گا۔