محکمہ مال میں نئے قانون کے بعد منڈل واری سطح پر اراضیات کی قیمتوں کا تعین

,

   

حکومت کی آمدنی میں اور اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ ، حکومت کی منصوبہ بندی
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے ریوینیو ایکٹ کی منظوری اور نفاذ کے فوری بعد ریاستی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں منڈل واری اساس پر اراضیات کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔ نئے ریوینیو ایکٹ کی منظوری کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ میں اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت نے بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے خاتمہ کے لئے نئے قوانین کے تدوین کا فیصلہ کیا ہے اور اب ریاستی حکومت کی آمدنی میں اضافہ کیلئے اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا جائے گاتاکہ ریاست میں موجود اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں رجسٹریشن کے لئے ادا کی جانے والی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ ریاست کے تمام اضلاع میں منڈل واری سطح پر اراضیات کی قیمت کے تعین اور اس میں 10تا50 فیصد اضافہ کے متعلق حکومت کی جانب سے جلد فیصلہ کئے جانے کی توقع ہے۔ حکومت اور محکمہ مال کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کو اس بات کا علم ہے کہ رجسٹریشن کیلئے جو قیمت ادا کی جاتی ہے بازار میں اس سے دوگنی اور بعض مرتبہ 4گنا زیادہ قیمت ہوا کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اب تک حکومت کی جانب سے جائیدادوں کی قیمتوں اور اراضیات کی قیمتوں پر نظر ثانی کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا لیکن اب جبکہ محکمہ مال میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں تو حکومت کی جانب سے اراضیات کی سرکاری قیمت میں بھی اضافہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔رجسٹریشن میں اراضیات کی جو قیمت ریکارڈ کروائی جاتی ہے اگر اس قیمت کا جائزہ لیا جائے تو اس اعتبار سے حکومت کو حاصل ہونے والی آمدنی میںکافی کمی ریکارڈ کی جاتی رہی ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے مستقبل قریب میں اراضیات کی سرکاری قیمتو ںمیں اضافہ کے اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ ریاست میں موجود جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کا فائدہ جائیدادمالکین کو بھی ہوگا۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے محکمہ مال میں لائی جانے والی تبدیلیوں کے دوران اس اہم مسئلہ پر بھی عہدیداروں کی جانب سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور حکومت کو تجاویز روانہ کی جاچکی ہیں۔