مختلف سرکاری محکمہ جات 28,140کروڑ روپئے برقی بلز واجب الادا

   

کالیشورم کے علاوہ دیگر لفٹ اریگشن پراجکٹس کے 14,172 کروڑ اور حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس 3932 کروڑ روپئے کے بقایاجات
علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر صرف 1268 کروڑ روپئے کے بقایاجات تھے ،10سال میں 20گنا اضافہ ہوگیا

حیدرآباد ۔11ڈسمبر ( سیاست نیوز) ریاست میں حکومت محکمہ برقی کو 28,140 کروڑ روپئے برقی بلز بقایاجات ادا کرنا ہے ۔ مرکزی حکومت کے مختلف محکمہ جات کے برقی بقایاجات 721کروڑ روپئے ہیں اور ان تمام کو شمار کرلیا جائے تو جملہ بقایاجات 28,861 کروڑ روپئے ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے موقع پر 4جون 2014 تک ریاستی حکومت کے 1268 کروڑ روپئے کے برقی بقایا جاتا تھے ۔ ہر سال ان برقی بقایاجات میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا اور 10سال میں بقایاجات 20گنا سے زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔ کالیشورم پراجکٹ ، دیگر لفٹ اریگیشن پراجکٹس ، پینے کے پانی کی سربراہی ، اسٹریٹ لائٹنگ کیلئے استعمال کی گئی برقی بلز کے بقایاجات حکومت کی جانب سے بروقت ادا نہ کرنے سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔محکمہ برقی کے عہدیداروں نے برقی کی تازہ صورتحال سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو واقف کرایا ۔ واضح رہے کہ کالیشورم پراجکٹ کے علاوہ ریاست کے دیگر لفٹ اریگیشن پراجکٹس کیلئے استعمال کی گئی برقی بلز کے بقایاجات 14,172 کروڑ روپئے ہیں ۔ علحدہ ریاست کی تشکیل سے قبل لفٹ اریگیشن پراجکٹس کیلئے استعمال کی گئی برقی کے بقایا جات صرف 103کروڑ تھے ۔ مشن بھگیرتا اسکیم پر عمل آوری کیلئے 3559 کروڑ روپئے برقی بلز کے بقایاجات ہیں ۔ حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے استعمال سے متعلق برقی بلز 3932 کروڑ روپئے ہیں ۔ گزشتہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی آر ایس نے شہر کے عوام کو نلوں سے مفت پانی سربراہ کررہی ہے جس سے حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس اپنی آمدنی سے محروم ہوگئی ہے،نتیجہ میں برقی بلز ادا نہیں کیا ہے ۔ دیہی علاقوں میں مشن بھگیرتا اسکیم کے ذریعہ مفت پینے کا پانی سربراہ کیا جارہاہے ۔ اس شعبہ میں بھی برقی بلز ادا نہیں کیا ہے ۔ اس کے علاوہ گرام پنچایتوں کے برقی بلز کی ادائیگی سے متعلق 3993 کروڑ روپئے محکمہ پنچایت راج کھاتے سے میونسپلٹیزکے برقی بلز کی ادائیگی سے متعلق 1183 کروڑ روپئے محکمہ بلدی نظم و نسق کے کھاتے سے جملہ 5176 کروڑ راست طور پر سرکاری خزانے میں منتقل کردیئے گئے ۔ مرکزی حکومت سے فراہم یہ فنڈز ہے جس کو غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کا پتہ چلا ہے ۔ اس طرح حکومت کے مختلف محکمہ جات سے 23,685 کروڑ روپئے مرکزی حکومت کے محکمہ جات سے 721 کروڑ روپئے اور غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کے 5176 کروڑ روپئے شمار کرلیا جائے جملہ بقایاجات 28,861 کروڑ ہونے کی محکمہ برقی عہدیداروں نے چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی ہے ۔ برقی سربراہی سے متعلق ادارہ ڈسکام برقی بقایاجات سے زیادہ متاثر ہیں ۔ (TSNPDCL) ، (TSASPDCL) 50,275 کروڑ روپئے نقصانات میں ہونے کی حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی ہے ۔ حکومت کے مختلف محکمہ جات 28,140کروڑ روپئے کے برقی بقایاجات ہیں ۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت ٹرو اپ کے تحت 12,515 کروڑ روپئے کے چارجس محکمہ برقی کو باقی ہے ۔ ان دونوں کو شمار کرلیا جائے تو جملہ بقایاجات 40,655 کروڑ تک پہنچ جائیں گے ۔ ریاستی حکومت کے بقایاجات ادا کرنے پر ڈسکامس کے نقصانات 9620 کروڑ روپئے تک گھٹ جائیں گے ۔محکمہ برقی نے ٹرواپ چارجس 12,515 کروڑ روپئے صارفین سے وصول کرنے کی کوشش کی تھی جس کو سابق بی آر ایس حکومت نے منظوری نہیں دی تھی ۔ آئندہ پانچ سال میں اقساط کی شکل میں حکومت کی جانب سے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا ، تاہم ابھیتک کوئی ادائیگی عمل میں نہیں آئی ۔