بھوپال : مدھیہ پردیش میں اُردو اساتذہ کو پھر نظرانداز کیا جارہا ہے ۔اس کے خلاف آرتی شرما کی قیادت میں شروع کی گئی اس تحریک کی خاص بات یہ ہے کہ اس تحریک میں یونیورسٹیوں،کالجوں اور اسکولوں میں اُردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ ،اُردو والوں کے ذریعہ نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ُاردو سے محبت کرنے والی آرتی شرما کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔مدھیہ پردیش میں اُردو اساتذہ کو پھر نظر انداز کئے جانے کے خلاف آرتی شرما کی قیادت میں تحریک زور پکڑ رہی ہے ۔ مدھیہ پردیش کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اردو اساتذہ کے تقرر کو لیکر مدھیہ پردیش میں سب سے بڑا احتجاج 2002-03ء میں کیا گیا تھا۔ اس وقت سابق وزیراعلی ڈگ وجے سنگھ نے اردو والوں کے مطالبہ پر ریاست میں میں 2200 اُردو اساتذہ کی تقرری کا اعلان کیا تھا۔ اعلان کے بعد اردو اساتذہ کی تقرری کا عمل بھی شروع ہوا لیکن ریاست میں جملہ 660 اردو اساتذہ کی ہی اردو اسکولوں میں تقرری ہو سکی۔ 2003 کے بعد مدھیہ پردیش کی یونیورسٹیوں،کالجوں اور اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کا مستقل مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں مگر کسی بھی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔