نئے نصاب کو ’’میڈیکل ایتھکس ‘‘ کا نام دیا گیا ، سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ کی بی جے پی پر تنقید
بھوپال: مدھیہ پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت اب نئے معاملے کے حوالے سے سرخیوں میں ہے ۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے والے طلباء کو ‘فاؤنڈیشن کورس’ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بانی ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیڈگیوار اور جن سنگھ کے رہنما پنڈت دین دیال اپادھیائے کے خیالات پڑھائے جائیں گے ۔میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق میڈیکل گریجویشن کے پہلے سال کے فاؤنڈیشن کورس میں نامور مفکرین کے خیالات کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے اوریہ اسی سیشن سے پڑھنا ہوگا۔ اس میں مسٹر ہیڈگیوار اور مسٹر اپادھیائے کے خیالات بھی شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، مہرشی چرک اور آچاریہ سشرت کے بارے میں بھی پڑھایا جائے گا۔یہ نصاب میں ‘میڈیکل ایتھکس’ کے طور پر پڑھائے جائیں گے ۔سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ نے اس معاملے میں ایک ٹویٹ کے ذریعے بی جے پی حکومت کو نشانے پرلیا ہے ۔ مسٹرکمل ناتھ نے کہا کہ بی جے پی شروع سے ہی اپنے نظریے اور اپنے خاص ایجنڈے کو لوگوں پر مسلط کرنے کاکام کرتی رہتی ہے ۔ چاہے تعلیم کا شعبہ ہو یا کوئی دیگر شعبہ۔ اب مدھیہ پردیش میں ایم بی بی ایس کے طلباء کو جن سنگھ اورآرایس ایس کے بانیوں کے خیالات پڑھائے جائیں گے ۔مسٹر کمل ناتھ نے کہا کہ بی جے پی تعلیم کے میدان میں مسلسل اپنا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش برسوں سے کر رہی ہے ۔ اور یہ بھی اسی کا ایجنڈا ہے ۔ ملک میں بہت سے ایسے عظیم انسان رہے ہیں، جنہوں نے آزادی کی جدوجہد سے لے کر ملک کی ترقی اور ملکی مفاد میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ بہترتویہ ہے کہ بی جے پی حکومت غیرجانبدارانہ جذبے سے ان کے خیالات سے طلباء کو آگاہ کرانے کا کام کرے ، نہ کہ اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے اور کسی خاص نظریے کے ایجنڈے کو مسلط کرنے کاکام کرے ۔