منچریال میں امن کمیٹی کا اجلاس، ڈی سی پی اکھیل مہاجن کا خطاب
منچریال ۔ محکمہ پولیس منچریال کی جانب سے مسلم شادی خانہ منچریال میں ایک امن کمیٹی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں تمام مذاہب کے ذمہ دار حضرات اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ وائس چیرمین منچریال میونسپالٹی مسٹر جی مکیش گوڑ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے خطاب کیا اور کہا کہ منچریال قومی یکجہتی کا گہوارہ اور گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہے۔ یہاں پر برسوں سے ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، سبھی آپس میں مل جل کر زندگی گذاررہے ہیں۔ ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کررہے ہیں۔ انہوں نے قبل ازیں تمام مسلم بھائیوں کو رمضان المبارک کی مبارکباد دی۔ روزہ تقویٰ پرہیز گاری کی ترغیب دیتا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ مسلم بھائی رمضان میں روزہ رہتے ہیں اور امن کے لئے دعا کرتے ہیں۔ ڈی سی پی مسٹر اکھیل مہاجن نے کہا کہ منچریال میں ہندو مسلم سبھی مذاہب کے لوگ آپس میں امن سے زندگی گذاررہے ہیں۔ یہاں کے شہری بلا امتیاز مذہبی وابستگی امن پسند ہیں۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ امن کو بنائیں رکھیں اور ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں کی قدر کریں۔ امن کو قائم رکھنے میں پولیس کے ساتھ تعاون کرے۔ اس اجلاس میں مسلم، ہندو، سکھ، عیسائی طبقات کے کثیر افراد نے شرکت کی۔ دریں اثناء مسلم یوتھ ویلفیر کمیٹی منچریال نے محمد سہیل خاں کی سرپرستی میں ڈی سی پی منچریال مسٹر اکھیل مہاجن کو ایک یادداشت پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ماہ رمضان المبارک دوران منچریال میں مسلم تاجروں وہ دیگر مسلم مصلیوں کے لئے رات دیر گئے گھروں کو پہنچنے میں تاخیر پر سختی نہ کی جائے اور کہا کہ منچریال میں 20 سے زائد مساجد ہیں۔ مسلمان ماہ رمضان میں نماز تراویح ادا کرنے کے بعد رات دیر گئے گھروں کو پہنچتے ہیں۔ اس لئے انہیں رات دیر گئے 11 بجے تک نقل و حرکت کے لئے اجازت دی جائے۔ ڈی سی پی نے تیقن دیا کہ وہ ماہ رمضان کے دوران تمام روزہ داروں اور تاجروںکو عبادت اور گھروں کو جانے میں تاخیر پر رعایت دیں گے اور کوئی سختی نہیں کی جائے گی اور کہا کہ امن کو بنائے رکھنے میں پولیس کے ساتھ تعاون کی درخواست کی ہے۔