مذہبی خبریں

   

جین زی میں بے پناہ صلاحتیں موجود، انھیں صحیح رخ دینے کی ضرروت
شاہی مسجد باغ عام میں مقابلہ مطالعہ سیرت النبیؐ کا جلسہ تقسیم انعامات
مفتی ضیاء الدین نقشبندی ،جناب منور زماں ، مولانا احسن الحمومی و دیگر کا خطاب

حیدرآباد ۔ یکم ؍ فبروری (راست) ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو آج کے نوجوان کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے، خواہ وہ قیادت ہو، کردار سازی، صبر و استقامت یا مقصد ِ حیات کا تعین۔ سیرتِ طیبہ میں زندگی کے ہر موقع پر رہنمائی موجود ہے۔ جین زی کے نوجوان غیر معمولی ذہانت رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف موٹیویشنل اسپیکر جناب منور زماں نے شاہی مسجد باغ عام میں دوسرا عظیم الشان مقابلہ برائے فروغ ِ مطالعہ ٔ سیرت النبیؐ کے جلسہ تقسیم انعامات کے دوران کیا۔پروگرام کے مہمان خصوصی جناب منور زماں نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف کامیاب کیریئر نہیں بلکہ مضبوط کردار کا حامل بننا ضروری ہے۔ کوئی کامیاب تاجر، نامور ڈاکٹر اور مایہ ناز انجینئر اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بڑا بن سکتا ہے؛ لیکن جس کے اخلاق اچھے ہو، وہ بہترین انسان ہوگا۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ ’بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔‘ ’تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں‘۔ ’تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے‘۔ ’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘۔ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پنچائے اور لوگ اس سے اسفادہ کریں۔ لوگوں کا کسی سے استفادہ کا یہ مطلب ہے کہ بندہ کوئی ہنر جانتا ہو تو وہ دوسروں کو سکھائے، جس سے دوسروں کو فائدہ ہوگا۔ اسی طرح کسی کو کوئی اچھی بات سیکھانا اورلوگوں سے اچھے انداز میں پیش آنا بھی انسان کے بہتر اور بااخلاق ہونے کی علامت ہے۔ جوانی وہ دور ہے جس میں انسان کو قوتِ جسمانی، ذہنی تازگی، جذبہ، ولولہ اور کچھ کر گزرنے کی صلاحیت عطا کی جاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس میں انسان اپنی شخصیت کی بنیاد رکھتا ہے اور مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔ اگر اس نعمت کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہی جوانی کامیابی، عزت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ انھوں نے والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کریں، ان کی جائز ضروریات کی خیال کریں۔ وہ اپنی توانائیاں مثبت اور تعمیری کاموں میں صرف کر سکیں۔ سیرت النبیؐ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع کو مقصد کے تحت استعمال کریں، اور اپنی صلاحیتوں کو امت اور انسانیت کی فلاح کے لیے بروئے کار لائیں۔ اگر جین زی کو سیرتِ رسولؐ کی روشنی میسر آ جائے تو یہی نسل مستقبل کی سب سے مضبوط، باکردار اور باوقار قیادت فراہم کر سکتی ہے۔منور زماں نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے پناہ صلاحیتیں ہوتی ہیں، جو اگر درست سمت میں استعمال کی جائیں تو فرد اور معاشرہ دونوں ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان اپنی توانائی، وقت اور ذہانت کو اللہ کی رضا کے حصول، والدین کی خوشنودی اور اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سنوارنے میں صرف کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو حقیقی کامیابی اور قلبی سکون کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ کی رضا کے بغیر حاصل ہونے والی کامیابی وقتی ہوتی ہے، جبکہ والدین کی دعائیں انسان کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں۔ عصرِ حاضر میں سیرتِ رسول ؐ کی افادیت اور نوجوان نسل کی رہنمائی سے متعلق مفتی ضیاء الدین نقشبندی نائب شیخ الجامعہ، جامعہ نظامیہ اور مولانا ڈاکٹر حافظ احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام نے خطاب کیا۔ مقابلہ برائے مطالعۂ سیرت النبی ؐکے تحت مجموعی طور پراول ، دوم اور سوم (انگریزی و اردو اور طلبہ و طالبات کے لیے الگ الگ) 48 انعامات تقسیم کیے گئے، اس کے علاوہ تمام طلبہ کے نتائج کا باضابطہ اعلان بھی اسی تقریب میں کیاگیا۔پروگرام کے دوران شرکاء امتحان نے مطالعۂ سیرت کے حوالے سے اپنے تاثرات اور تجربات بھی شیئر کیے، جبکہ اس موقع پر آن لائن مدرسہ ’’الحموومیہ‘‘ برائے اسلامی و عربی تعلیمات کا افتتاح بھی عمل میں آیا۔مولانا حافظ میر لطافت علی ، جامعہ نظامیہ، ڈاکٹر محمد مصطفی علی سروری مانواور دیگر علماء موجود تھے۔اس پروگرام میں شہر کے مختلف معروف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات اور ان کے ذمہ داران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ڈاکٹرمحمدعبدالعلیم نظامی نے پروگرا م کی کاروائی چلائی۔

نفرت کے بیوپاریوں پر لگام کسنا ضروری
چیف منسٹر آسام کے بیان پرمولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ کا احتجاج
حیدرآباد یکم ؍ فبروری (پریس نو ٹ) امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے آسام کے مسلمانوں سے متعلق آسام کے چیف منسٹر کی زہر افشانی اور غیر دستوری و غیر پارلیمانی اظہار خیال اور سماج کے دوطبقات کو اکسانے اور بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں پر شدید دکھ، رنج و غم اور شدید الفاظ میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا اور پھر یہ کہنا کہ میرے کہنے کا مطلب ایسا نہیں تھا،اب یہ ملک دشمن طاقتوں کا وطیرہ بن گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں نفرت کے چھوٹے سے لے کر بڑے تک سبھی بیو پاریوں کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی عادت سی ہوتی جا رہی ہے جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک انگریزوں کے قبضے سے آزاد نہ ہوتا اگر علماء اور مسلم قائدین نے اس میں ہزاروں کی تعداد میں حصہ نہ لیا ہوتا- مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ صحافتی اطلاعات کے مطابق آسام کے چیف منسٹر نے مسلم دشمنی میں یہاں تک کہہ دیا کہ میاؤں کو یہاں قانونی طور پر ووٹ کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ میاں لوگوں کو ستائیں کیونکہ مشکل ہونے پر ہی وہ آسام کو چھوڑیں گے ۔ مولانا جعفر باشاہ نے کہا کہ اتنا سب کچھ واضح انداز میں مسلمانوں کی مخالفت کے باوجود جب کوئی اس طرح کی بے ہودہ گفتگو کرنے والوں کو توجہ دلاتا ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ میری بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے میرے کہنے کا مطلب ایسا نہیں تھااگر میرے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معافی چاہتا ہوں،،مولانا جعفر پاشا نے کہا کہ پہلے تو من میں جو آیا یا وہ کہہ دیتے ہیں اور پھر بعد میں کہتے ہیں اگر ہمارے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معافی چاہتے ہیں مسلم دشمن طاقتوں نے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے اوراس طرح کا معمول ہم ہمارے ملک میں کئی مقامات پر دیکھتے آرہے ہیں ۔ آسام کے چیف منسٹر میں انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور بہت ممکن ہے کہ بہت سارے لوگوں نے ان کی غیر اخلاقی اور غیر معیاری اور غیر دستوری باتوں کو بری طرح مسترد بھی کر دیا ہوگا ہندوستان تمام مذاہب کے لوگوں کا وطن ہے ہر کسی کو اپنے ملک سے پیار ہوتا ہے اور سب سے بڑا پیار انسانیت سے محبت ہے لیکن آسام کے چیف منسٹر نے غیر انسانی رویوں کی تمام حدود پار کر دیے ہیں مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ تمام انسانیت نواز تنظیم افراد اور سیکولر جماعتیں چیف منسٹر آسام کے غیر جمہوری و غیر پارلیمانی رویہ کے خلاف کھل کر آواز اٹھائیں۔ مسلمان صبر و استقامت کے ساتھ ہی حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اخر میں مولانا جعفر پاشاہ نے امید ظاہر کی کے سابق میں جس طرح سپریم کورٹ نے انسانیت کے اقدار کو بچانے کے لیے جس طرح سے اقدامات کیے ہیں اسی طرح چیف منسٹر آسام سے متعلق بھی از خود نوٹس لی جائے گی۔

جامعۃ المؤمنات کے اجتماع کے پوسٹرس کی رسم اجراء
حیدرآباد۔ یکم فروری (راست) جامعۃ المؤمنات کا ریاستی اجتماع برائے خواتین کے تشہیری مواد پوسٹرس کی رسم اجراء کے موقع پر مفتی محمد مستان علی قادری ناظم اعلیٰ جامعۃ المؤمنات، محمد احمد پاشاہ، مفتی عبدالرحیم، ڈاکٹر صادق علی، حافظ محمد مصعب پاشاہ دانش، جناب سعادت علی موجود تھے۔ واضح رہے کہ جامعۃ المؤمنات کا یہ اجتماع 7 فروری بروز ہفتہ 9 بجے صبح اُردو مسکن، خلوت میں منعقد ہوگا۔ اس موقع پر جامعہ کے فارغات، حافظات، مولویات، عالمات، فاضلات، مفتیات، الدکتورات کو بدست مہمان خصوصی اسناد و خلعتیں عطا کئے جائیں گے۔