مرشدآباد تشدد منصوبہ بند تھا ، امیت شاہ پر کنٹرول ضروری :ممتا بنرجی

,

   

سرحد پار سے عناصر کی سرگرمیوں میں بی ایس ایف کے رول کی تحقیقات کی جائیں، وزیراعظم مودی سے چیف منسٹر کی اپیل

کولکاتا: چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے آج مرشدآباد کے حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کو ’’منصوبہ بند‘‘ قراردیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی ایس ایف کے بعض جوانوں‘ مرکزی ایجنسیوں اور بی جے پی نے بنگلہ دیش سے لوگوں کو سرحد پار کرنے دیتے ہوئے تشدد کو ہوا دی۔مسلم مذہبی رہنماؤں کی میٹنگ سے خطاب میں ممتا بنرجی نے وزیراعظم نریندر مودی سے گزارش کی کہ وہ وقف ترمیمی قانون لاگو نہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ قانون ملک کو بانٹ دے گا۔ انہوں نے وزیراعظم سے یہ بھی گزارش کی کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کی لگام کسیں جو ممتا بنرجی کے بقول اپنے سیاسی ایجنڈہ کے لئے ملک کو بہت نقصان پہنچارہے ہیں۔ ٹی ایم سی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی کشیدہ صورتحال کے باوجود مرکز نے عجلت میں وقف ترمیمی بل منظور کیا اور سرحد پار سے غیرقانونی دراندازی ہونے دی۔ ان 2 وجوہات کے باعث مغربی بنگال میں بے چینی پھیلی۔ ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ بی ایس ایف کے بعض جوانوں اور بعض مرکزی ایجنسیوں نے جو وزارت ِ داخلہ کے تحت ہیں‘ تشدد بھڑکانے میں رول ادا کیا۔انہوں نے بی ایس ایف کے رول کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ میرے پاس ایسی خبریں ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرشدآباد کی بے چینی میں سرحد پار عناصر کا رول ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سرحد کی نگرانی کرنا بی ایس ایف کا کام نہیں ہے؟۔ ریاستی حکومت بین الاقوامی سرحد کی نگرانی نہیں کرتی۔ مرکزی حکومت اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ میں پتہ چلاؤں گی کہ بی ایس ایف نے سرحدی علاقوں میں کن لوگوں کو دورانِ تشدد سنگباری کرنے کے لئے پیسہ دیا۔انہوں نے مہلوکین کے ورثا کو فی کس 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا اور ریاستی چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ بی ایس ایف کے رول کی تحقیقات کی جائیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ میں وزیراعظم سے گزارش کروں گی کہ وہ امیت شاہ کو کنٹرول کریں۔ یہ شخص اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ملک کو بڑا نقصان پہنچارہا ہے۔ امیت شاہ کو اتنی جلدی کیوں ہے؟ یہ شخص کبھی بھی وزیراعظم نہیں بنے گا۔ مودی کے جانے کے بعد کیا ہوگا؟ وزیراعظم کو دیکھنا چاہئے کہ ان کا وزیر داخلہ کیسے مرکزی ایجنسیوں کا بے جا استعمال کررہا ہے۔

چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی خاموشی پر ممتابنرجی کی تنقید
نئی دہلی : مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتابنرجی نے وقف ترمیمی قانون 2025ء پر بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بل کو انتہائی عجلت کے ساتھ صرف معمولی اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے چال چلتے ہوئے آئین میں ترمیم کے بجائے ایک نیا بل ہی پیش کردیا جس پر وزیراعلی آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو اور بہار کے وزیراعلی نتیش کمار کی خاموشی معنی خیز ہے۔ دونوں بھی این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ آج ان دونوں کی خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے عوض بی جے پی انہیں مزید کچھ اختیارات دینے والی ہے۔ انہوںنے دعوی کیا کہ بی جے پی کی اب دہلی میں بھی حکومت ہے اور وہاں ایسے علاقے جہاں بنگالی شہری آباد ہیں، گوشت اور مچھلی کی فروخت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یونیفارم سیول کوڈ کے ذریعہ مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن مودی جی جب دبئی اور دیگر عرب ممالک کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں مسلمان قائدین سے بغلگیر ہوتے ہیں۔ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

ممتا بنرجی ذمہ داری سے فرار نہ ہوں: عیسیٰ چوھری
کولکتہ: وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے آج نیتاجی انڈور اسٹیڈیم میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مرشدآباد اور مالدہ کے جس علاقے میں تشددکے واقعات ہوئے ہیں وہاں سے کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ عیسیٰ خان چودھری منتخب ہوئے ہیں ۔ممتا بنرجی نے اشارتاً اس تشدد کیلئے انہیں ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کررہے تھے۔ اس پر رد عمل دیتے ہوئے کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ عیسیٰ نے ممتا بنرجی کو یاد دلایا کہ وہ اپنی ناکامی کیلئے ہمیں ذمہ دار نہ ٹھہرائیں۔ قانون اور امن کی بحالی کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ کسی ممبر پارلیمنٹ کے ہاتھ میں پولیس اور انتظامیہ نہیں ہوتی ہے ۔ فرکھا اور شمشیر گنج کے جن علاقوں میں تشدد کے واقعات ہوئے ہیںوہ کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ عیسیٰ کے لوک سبھا حلقہ مالدہ جنوب میں شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کانگریس کے عیسیٰ کے کردار پر سوال اٹھایا ہے ۔ممتا بنرجی نے نام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی کے الزامات بے بنیاد ہیں کیونکہ جتنے بھی علاقے فسادات ہوئے وہ انتظامی طور پر ترنمول کانگریس کے کنٹرول میں ہیں۔
اس علاقے کے ممبران اسمبلی اور پنچایت سب پر ترنمول کانگریس کا قبضہ ہے ۔اس صورت میں، مجھ پر یا میری پارٹی پر الزام کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے ممتا بنرجی کو مشورہ دیا کہ وزیر اعلیٰ کو ہم پر الزامات لگانے کے بجائے اپنے راج دھرم پر عمل کرنا چاہیے۔ اپنی پولیس انتظامیہ کو فعال کریں۔ ریاستی حکومت کے انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ کو فعال کر کے ایسے واقعات کو پیشگی روکنے کی کوشش کریں۔ وزیر اعلیٰ ممتا کی تقریر کے فوراً بعد کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ ادھیر چودھری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ایک بار متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ جب ہاتھرس اور منی پور میں پریشانی ہوتی ہے تو وہ نوٹس لیتے ہیں۔کیا جنگی پور اور شمشیر گنج اچھوت ہیں؟ کیا وہاں کے لوگوں نے ووٹ نہیں دیا؟ کیا مرشدآباد کے ایم پی ان کی پارٹی کے نہیں ہیں؟ پھر وہ لوگوں کے آس پاس کیوں نظر نہیں آتی؟ وزیر اعلیٰ، کم از کم ایک بار متاثرہ مظلوم ہندو اور مسلم خاندانوں سے ملیں اور بات کریں!
کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ عیسی خان چودھری نے وزیر اعلیٰ کے لہجے کی بازگشت کرتے ہوئے بدامنی کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے عیسی نے کہا کہ بی جے پی مذہبی سیاست کرنے کے لیے تیار ہے ۔ وزیر اعلیٰ پارٹی کو مذہبی سیاست کھیلنے کا موقع دے رہی ہیں۔ مرکزی وزیر اور بی جے پی کے ریاستی صدر سوکانت مجمدار نے پہلے موتھا باڑی، مالدہ اور بعد میں شمشیر گنج میں ایک پرتشدد تقریر کرتے ہوئے عام لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دانتوں کو اٹھا لیں۔ وزیر اعلیٰ کو اس مشکل وقت میں ایسی تقاریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے ۔ یہ کانگریس کا مطالبہ ہے ۔ کانگریس نہیں چاہتی کہ آر ایس ایس سے متاثر سیاست ملک میں قدم جمائے لیکن مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی بدولت انہیں مذہبی سیاست کرنے کے لیے جگہ مل رہی ہے ۔ میں وزیر اعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مذہبی سیاست کے اثرات کے بارے میں سوچیں۔ کیونکہ علاقے میں جا کر متاثرہ لوگوں سے بات کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ تمام معاملات میں غریب ہندو اور غریب مسلمان بھائی متاثر ہوئے ہیں۔وقف ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران مرشدآباد کے کچھ علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ کئی اموات بھی ہوئی ہیں۔ جھڑپوں کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے مرشد آباد کے ڈھولیاں چھوڑ کر دریا کے کنارے مالدہ کے وشنو نگر میں ایک عارضی کیمپ میں پناہ لی ہے ۔ ایشا نے کہا کہ اس نے ان تمام پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کیا ہے ۔ مالدہ پولیس علاقے میں مکمل امن بحال ہونے تک مالدہ تھانے کے گھر سے صورتحال پر نظر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔