مرکز نے پری پیڈ میٹرس نصب کرنے لالچ دیا تھا : کے سی آر

   


ریاستی حکومت نے 2000 کروڑ روپئے کی پیشکش ٹھکرا دی
حیدرآباد۔13۔ستمبر(سیاست نیوز) برقی اصلاحات پر عمل آوری اور تلنگانہ میں پری پیڈ میٹرس کی تنصیب پر مرکزی حکومت نے تلنگانہ کو 2000کروڑ روپئے ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں کل مباحث کے دوران بتایا کہ ریاستی حکومت سے کسانوں و زرعی مزدوروں کو مفت برقی سربراہ کی جار ہی ہے لیکن مرکز نے زرعی سرگرمیوں بالخصوص بورویل و موٹرس کیلئے برقی کیلئے پری پیڈ میٹرس کی تنصیب کو یقینی بنانے پر 2 ہزار کروڑ روپئے جاری کرنے کا لالچ دینے کی کوشش کی لیکن ریاستی حکومت نے اس پیشکش کو مسترد کرکے مخالف کسان اقدامات نہ کرنے سے واقف کروادیا ۔ اس کے بعد ہی ریاست کو قرضوں کی اجرائی میں مشکلات پیدا کرنے کی کوشش شروع کی گئی ۔ کے سی آر نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور ان سے وعدے کے مطابق کسانوں کو مفت برقی سربراہی کے ذریعہ ملک بھر میں مثال قائم کی ہے لیکن مرکز کی جانب سے کسانوں کو مفت برقی کو ترک کرنے کے علاوہ انہیں پی پیڈ میٹر نصب کرنے پر ریاستی حکومت کو 2000 کروڑ روپئے جاری کرنے کی بات کی جس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت مرکز کے دباؤ کا شکار نہیں ہوگی اور نہ مخالف عوام فیصلوں پر عمل کے ذریعہ مرکزی امداد حاصل کرنے آمادگی ظاہر کریگی۔ م