زرعی بلز کو منسوخ کرنے کا مطالبہ، آشا ورکرس، آنگن واڑی وکرس و دیگر کی شرکت
نظام آباد :مرکزی حکومت کے زرعی پالیسی کے خلاف سی آئی ٹی یو کی جانب سے بڑے پیمانے پر کلکٹریٹ کا محاسبہ کرتے ہوئے حکومت کیخلاف نعرہ بازی کی گئی سی آئی ٹی یو کے ریاستی سکریٹری ایس رامو ، سی آئی ٹی یو کے ضلع سکریٹری نورجہاں کے علاوہ سی پی ایم کے سکریٹری گوردھن کے علاوہ دیگر نے آج راجیو گاندھی آڈیٹوریم سے بڑے پیمانے پر آشا ورکرس ، آنگن واڑی ٹیچرس کے ہمراہ ایک ریالی نکالی اور یہ ریالی مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے کلکٹریٹ پہنچ کر بڑے پیمانے پر دھرنا دیا گیا مرکزی حکومت نے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے تین زرعی بلوں کو منظور کیا ہے اور اسے برخواست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کسانوں کی جانب سے گذشتہ کئی دنوں سے احتجاج کیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی حکومت اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہٹ دھرمی کرتے ہوئے کسانوں کے مسائل کو حل کرنے سے گریز کررہی ہے اور کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو کم ازکم ماہانہ 24 ہزار روپئے اجرت کی ادائیگی کا قانون ہونے کے باوجود بھی اس پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ سرکاری ادارہ کے تحفظ اور آنگن واڑی اور دیگر ورکرس کو ملازمین کی حیثیت سے قرار دینے میونسپل گرام پنچایت کے ملازمین کو کام کے مطابق اجرتوں کی ادائیگی کا ہائی کورٹ کی جانب سے احکامات جاری کے باوجود بھی اس پر عمل نہیں کیا جارہا ہے مزدوروں اور کارکنوں کے مسائل عدم حل کرنے کی صورت میں حکومت کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
