حیدرآباد۔یکم فبروری، ( سیاست نیوز) مرکزی بجٹ پر تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی برسراقتدار پارٹیوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے مسائل کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی ریاست تلنگانہ کی ترقی کیلئے کوئی پہل نہیں کی گئی ہے۔ لوک سبھا میں ٹی آر ایس کے فلور لیڈر ناما ناگیشور راؤ نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے متعلق اُمور کو نظرانداز کیا گیا اس کے علاوہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ ریاست سے جو وعدے کئے گئے تھے انہیں بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم جدید قانون کے تحت ٹرائیبل یونیورسٹی کا قیام اور مرکز سے اضافی فنڈز کی اجرائی ضروری تھی لیکن بجٹ میں کوئی اعلانات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کرنے والی ریاستوں کو مرکز نے نظرانداز کردیا ہے۔ اسی دوران وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ وجئے سائی ریڈی نے بجٹ کو مایوس کن قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش سے مرکز نے ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ اُمید تھی کہ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف کا اعلان کیا جائے گا لیکن بجٹ میں اس طرح کا کوئی اعلان شامل نہیں تھا۔ انہوں نے مرکز پر یکطرفہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وائی ایس آر کانگریس حکومت خصوصی موقف کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ آندھرا پردیش کا زیادہ ترانحصار زراعت پر ہے لیکن مرکزی بجٹ میں ریاست کو زائد فنڈز کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولاورم پراجکٹ کی تعمیر میں تاخیر ہورہی ہے اس کے علاوہ پسماندہ اضلاع کی ترقی کیلئے فنڈز جاری کئے جانے چاہیئے۔ وجئے سائی ریڈی نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کی کوئی اسکیم مرکزی بجٹ میں شامل نہیں۔