مرکزی بجٹ قومی ترقی روڈ میاپ سے محروم: ڈاکٹر نارائنا

   

تعلیم اور صحت کے شعبہ جات نظر انداز، کارپوریٹ شعبہ کے مفادات کی تکمیل
حیدرآباد ۔2 ۔ فروری (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی قائد اور سنٹرل کمیشن کے صدرنشین ڈاکٹر کے نارائنا نے مرکزی بجٹ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ بجٹ ملک کیلئے بے فیض اور ترقی کے کسی بھی نظریہ سے عاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے بجٹ کے ذریعہ قومی ترقی کا کوئی روڈ میاپ پیش نہیں کیا ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے وزیر فینانس نرملا سیتارامن سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت انہیں مخالف عوام بجٹ کا دفاع کرنے مجبور کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں کارپوریٹ طبقہ کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے جبکہ ملک کی سماجی حقائق کو نظر انداز کردیا گیا ۔ نرملا سیتا رامن نے 50.65 لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کیا جو گزشتہ سال کے مقابلہ دو لاکھ کروڑ زائد ہیں لیکن غریب اور متوسط طبقات کو بجٹ سے مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا 12.76 فیصد حصہ قرض اور سود کی ادائیگی کیلئے مختص کیا گیا جبکہ دفاعی شعبہ کیلئے 6.81 فیصد بجٹ مختص کیا گیا۔ دیہی سطح پر ضمانت روزگار اسکیم کیلئے محض 1.7 فیصد رقم منظور کی گئی ۔ تعلیم کے لئے 2.5 فیصد اور صحت کے شعبہ کیلئے دو فیصد بجٹ مختص کیا گیا۔ ماہرین نے تعلیم کیلئے کم از کم 10 فیصد کی سفارش کی تھی۔ ڈاکٹر نارائنا نے بجٹ میں کسانوں ، دیہی مزدوروں ، نوجوانوں اور بیروزگاروں کو نظر انداز کرنے کی شکایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ شعبہ کے فائدہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعلیم ، صحت کے شعبہ جات کو فنڈ سے محروم رکھا گیا ہے ۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ انفراسٹرکچر اور عوامی فنڈس کو خانگی اداروں کے فائدہ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح مرکزی بجٹ موافق کارپوریٹ بجٹ ہے۔1