دمکا: جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ایگزیکٹوصدر اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے مرکزی حکومت پر اپوزیشن کو ہراساں کرنے کیلئے آئینی اداروں کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے سورین نے ڈمکا اسمبلی حلقہ میں اپنے چھوٹے بھائی اور جے ایم ایم کے امیدوار بسنت سورین کے حق میں منعقدہ انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا عزم کیا ہے ۔ اس کے لیے جے ایم ایم، کانگریس، آر جے ڈی اور بائیں بازو کی جماعتوں نے پوری ریاست میں مشترکہ امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ بی جے پی سماج میں زہر گھولنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ان اپوزیشن پارٹیوں کے پاس ترقی، روزگار، غریب، دلتوں، قبائلیوں اور کسانوں کے تئیں کوئی حساسیت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایکشن پلان ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی ذات پات، مذہب اور دراندازی کے نعرے لگا کر سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ جھارکھنڈ ریاست کے قیام کے بعد پانچ سال قبل جے ایم ایم کی قیادت میں ایک غیر بی جے پی حکومت قائم ہوئی تھی۔ان کی قیادت میں حکومت بننے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی بی جے پی نے ان کی حکومت گرانے کی کوشش شروع کر دی۔ ای ڈی، سی بی آئی اور دیگر آئینی ادارے اس میں شامل تھے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے ایم ایم کی زیرقیادت موجودہ حکومت اس کا مقابلہ بڑی دلیری سے کررہی ہے اور مستقبل میں بھی اس کا مناسب جواب دینے کی طاقت رکھتی ہے ۔