مرکزی حکومت سے تلنگانہ میں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کا مطالبہ

   


ملک گیر سطح پر آئندہ سال یکساں انتخابات کے پیش نظر ٹی آر ایس حکومت کی مساعی
حیدرآباد۔ آئندہ سال کے اواخر میں ملک بھر میں یکساں انتخابات کے سلسلہ میں مرکزکی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو دیکھتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں حلقہ جات اسمبلی کی از سرنو حد بندی کے سلسلہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ تقسیم ریاست بل میں حلقہ جات اسمبلی کی ازسر نوحد بندی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر عمل کیا جانا باقی ہے لیکن تشکیل تلنگانہ کے 6سال بعد بھی اس مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی ہے اسی لئے بجٹ سیشن کے دوران پیش کئے جانے والے 38 بلوں میں جنہیں مرکزی حکومت پاس کروانے کے لئے پیش کرے گی ان میں حلقہ جات اسمبلی کی از سرنو حدبندی کا بل بھی شامل رکھا جائے۔ تلنگانہ میں فی الحال 119 حلقہ جات اسمبلی اور 17پارلیمانی حلقہ جات موجود ہیں اور نئی حد بندی کے بعد ہر پارلیمانی نشست میں دو اسمبلی نشستوں کے اضافہ کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس طرح ریاست میں 34 اسمبلی کی نشستوں کا اضافہ ہوگا اور تلنگانہ میں اسمبلی کی نشستیں 119 سے بڑھ کر 153 ہوجائیں گی۔ تلنگانہ کے ساتھ ساتھ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں بھی ریاستی حکومت اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مرکزی حکومت کے ذمہ داروں سے بات چیت کرتے ہوئے حلقہ جات اسمبلی کی نئی حد بندی کے سلسلہ میں اقدامات کرنے کی نمائندگی کی جاتی رہی ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی ذرائع کے مطابق ریاست میں حلقہ جات اسمبلی کی از سر نو حد بندی کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت سے متعدد نمائندگیاں کی جاچکی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ بجٹ سیشن کے دوران تلنگانہ راشٹر سمیتی ارکان پارلیمان مرکزی وزیر داخلہ مسٹر امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے حلقہ جات اسمبلی کی نئی حد بندی اور اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کے متعلق بل کو ایوان میں پیش کرنے کی خواہش کریں گے ۔2014 میں ریاست تلنگانہ کی تقسیم کے فیصلہ میں اس بات کو کلیدی اہمیت دی گئی تھی کہ دونوں تلگو ریاستوں کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا جائے گا لیکن اس سلسلہ میں گذشتہ 6برسوں کے دوران کوئی پیشرفت نہ کئے جانے کے سبب دونوں تلگو ریاستوں کی حکومتوں کی جانب سے مرکزسے نمائندگی کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ تقسیم ریاست کے وقت کئے گئے اس وعدہ کو ملک بھر میں یکساں انتخابات کے انعقاد سے قبل پورا کیا جائے ۔