مرکزی حکومت پر ریاستی عوام کو تقسیم کرنے سیاسی سازش کا الزام : راچا ملا سدیشور

   

حیدرآباد ۔ 3 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : راچا ملاسدیشور راجیو گاندھی پنچایت راج سنگھٹن اسٹیٹ کنوینر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت ایک خطرناک سیاسی کھیل کھیلتے ہوئے ریاستوں اور وہاں کی عوام کو تقسیم کرنے کا کام کررہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی تقسیم کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے ۔ بی جے پی اقتدار پر برقراری کے لیے قابل اعتراض حکمت عملیوں این ڈی اے گروپ کے ساتھ ہی حد بندی کے منصوبوں پر بات چیت کی ۔ جس پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ راچا ملا سدیشور نے کہا کہ سیٹوں کی دوبارہ تقسیم آبادی کی بنیاد پر شمالی ریاستوں کو غیر متناسب طور پر فائدہ پہنچائے گی اور جنوبی ریاستوں کو پسماندگان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بعد از حد بندی شمالی ریاستیں جیسے اترپردیش ، بہار ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور گجرات میں سیٹوں میں کافی اضافہ ہوگا ۔ یہ بی جے پی کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر شمال میں کا سہارا لے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کے جنوبی علاقوں میں اپنے قدم جمانے کے لیے بی جے پی شمالی ریاستوں میں اپنے تسلط کا فائدہ اٹھا کر اقتدار میں واپسی کے منصوبے بنا رہی ہے ۔ راچا ملا سدیشور نے بتایا کہ جب مرکز نے گزشتہ سال آبادی کی بنیاد پر حد بندی کی کوشش کی تو اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس منعقد کیا اور منصفانہ حد بندی کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی وکالت کی جس کے بعد مرکز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ نئی حد بندی جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کو کم کردے گی اور قانون سازوں میں ان کی آواز کو کمزور کردے گی ۔ جس سے نہ صرف سیاسی طاقت بلکہ اقتصادی مفادات بھی متاثر ہوں گے ۔ 1976 اور 2002 میں حلقہ بندیوں نے نہ صرف سیٹوں میں اضافہ کئے بغیر حلقہ بندیوں کو تبدیل کیا ۔ 45 سال بعد مودی حکومت کا موجودہ دباؤ ایک متنازعہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے ۔ بی جے پی جس پر پہلے ہی سیاسی فائدے کے لیے مذہبی اور ذات پات کی تقسیم کا استحصال کرنے کا الزام ہے اب حد بندی کے ذریعے علاقائی تقسیم کو گہرا کرنے کا خطرہ ہے۔ اس طرح کے اقدام کے قومی یکجہتی پر طویل المدتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔۔ ش