مرکزی حکومت کے 8 سالہ دور میں عوام بے بس

   

مودی حکومت سے رکن کونسل کا کویتا کے مودی حکومت سے 8 سوال

نظام آباد : رکن کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے اس حقیقت پر غم و غصہ کا اظہار کیا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کے 8 سالہ دور میں عوام بے بس رہے ہیں اورعوام کو بی جے پی دور حکومت میں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ مودی حکومت کی جانب سے عوام سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر رکن قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے آج ٹوئیر پر مودی حکومت سے 8 سوالات کئے۔ انہوں نے بتایاکہ مرکزکی بی جے پی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ بی جے پی حکومت ناری شکتی کو برابری کا درجہ دیتے ہوئے انہیں با اختیار بنائے گی۔ اس پر رکن کونسل نے استفسار کیا کہ خواتین ریزرویشن بل کہاں ہے؟۔ ہمارے ملک کی جی ڈی پی میں جہاں گراوٹ ہورہی ہے وہیں ایک اور جی ڈی پی (گیاس، ڈیزل اور پٹرول) میں زبردست اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے ذریعہ تیزی سے حاصل ہورہی آمدنی کا کہاں استعمال کیا جارہا ہے؟۔ دختر وزیر اعلیٰ نے پوچھا کہ آخر تلنگانہ سے تعصبیت کب ختم ہوگی؟۔ مرکز کی بی جے پی حکومت ہماری ریاست کو 7ہزار کروڑ واجب الادا رقم کب فراہم کرے گی؟۔ افراط زر کی شرح ریکارڈ توڑسطح پر ہونے کے بعد ہم ایک ملک کی حیثیت سے اچھے دن (مہنگائی مکت بھارت) کب دیکھیں گے؟۔ امن و امان کی برقراری میں ناکامی اور ناکام نظام، عوام کو ”امرت کال” کب دیا جائیگا؟۔ انہوں نے بتایا کہ کسان ہندوستان کے دل کی دھڑکن ہیں، لیکن تلنگانہ کے دھان اور ہلدی کے کسان اپنی سخت محنت کے باوجود بی جے پی کے ہاتھوں پریشانی میں مبتلا ہیں۔ مودی حکومت کے نیو انڈیا کی حقیقت ”روزگار کی مار” ہے،جہاں کروڑوں ہندوستانی ایک ایسا روزگار تلاش کرنے کیلئے سعی کررہے ہیں جس سے انہیں کم از کم گزر بسر کے قابل آمدنی حاصل ہوسکے۔ آخر میں انہوں نے استفسار کیا کہ کوئی ایسا دن بھی آئے گا جس میں وزیراعظم مودی عوام کو فنڈس اور سچائی سے واقف کروائیں گے۔