حیدرآباد۔ تلنگانہ میں وائرس کے بڑھتے واقعات کے پس منظر میں مرکزی ٹیم کے دورے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حکومت کی جانب سے کورونا پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا جاسکے۔ یہ تیسری مرتبہ ہے جب مرکز نے تلنگانہ کیلئے ٹیم روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاک ڈائون میں نرمی کے بعد سے حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں پازیٹیو کیسس میں اضافہ ہورہا ہے۔ گریٹر حیدرآباد حدود میں روزانہ تقریباً ایک ہزار پازیٹیو کیس منظر عام پر آرہے ہیں۔ اس صورتحال میں مرکز نے جوائنٹ سکریٹری وزارت صحت لائو اگروال کی قیادت میں ٹیم کو تلنگانہ، گجرات اور مہاراشٹرا روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیم تینوں ریاستوں میں کورونا سے نمٹنے اقدامات پر عہدیداروں سے بات کریگی۔ ٹیم ارکان سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس میں علاج کی سہولتوں اور عوام کی جانب سے احتیاطی تدابیر کا بھی جائزہ لے گی۔ دورے کا مقصد ریاستوں کو کورونا سے نمٹنے میں رہنمائی کرنا ہے۔ ٹیم سابق میں دو مرتبہ ریاست کا دورہ کرچکی ہے۔ اپریل میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیر نئی دہلی کی ٹیم نے تلنگانہ کا دورہ کیا تھا جبکہ دوسری ٹیم نے سنجئے جاجو جوائنٹ سکریٹری وزارت دفاع کی قیادت میں ریاست کا دورہ کیا۔ پہلی ٹیم نے ریڈ زون علاقوں اور ہاٹ اسپاٹس کا معائنہ کیا تھا۔ مرکز کی ہدایات کے باوجود تلنگانہ حکومت نے ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی کنٹینمنٹ علاقوں کی نگہداشت پر توجہ دی گئی ۔ اب جبکہ وائرس میں تیزی آچکی ہے مرکزی ٹیم توقع ہے وجوہات اور تلنگانہ میں علاج کی سہولتوں پر خصوصی نظر رکھے گی۔ اسی دوران محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹیم کے دورہ کی تفصیلات ابھی موصول نہیں ہوئی ہیں۔