مزدوروں کو گھر واپس نہ ہونے کجریوال کی دوبارہ اپیل

,

   

نئی دہلی ۔ /29 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج دوسرے دن بھی لاکھوں مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ دہلی چھوڑکر اپنے آبائی مقامات کو واپس نہ جائیں ۔ ملک بھر میں 21 روزہ لاک ڈاؤن کے بعد کئی مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں غیروطنی ورکرس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے وطن واپس نہ جائیں ۔ دہلی حکومت کی جانب سے ان کے رہنے اور کھانے کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے کہ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں ۔ ہزاروں ورکرس اور لیبر بیروزگار ہونے کے بعد پریشان ہوچکے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے وطن واپسی کیلئے بے چین ہیں ۔ دارالحکومت دہلی کی سڑکوں پر کئی ورکرس اور لیبرس کو پیدل جاتے ہوئے دیکھا گیا ۔ چیف منسٹر نے انہیں آسرا دینے اور کھانا فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ آنند وہار اور کشمیری گیٹ بس ٹرمنس پر ہزاروں افراد کا ہجوم دیکھا گیا جہاں یہ لوگ اپنے وطنوں کو جانے کیلئے بس کا انتظار کررہے تھے ۔ کجریوال نے کہا کہ ان کی حکومت تمام سہولتیں فراہم کرے گی ۔ انہوں نے تمام مالکین اور تاجرین سے بھی خواہش کی کہ وہ لوگ اپنے ملازمین کو نہ نکالیں ۔ بہت سے لوگ ہزاروں کیلو میٹر کا فاصلہ پیدل طئے کررہے ہیں ۔ گزشتہ روز مہاراشٹرا پولیس نے 300 سے زیادہ مزدوروں کو بھر کر لائے گئے دو کنٹینرس کو روک دیا تھا ۔ گھر واپس ہونے والے مزدوروں میں ایک مسلم مزدور اپنی تین سالہ بیٹی کے ساتھ اپنے گھر کانپور 495 کیلو میٹر کا سفر پیدل طئے کرنے کا عزم کیا ہے کیونکہ اس کے پاس گزربسر کیلئے کچھ نہیں ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ کانپور میں اسے کم از کم رہنے اور پینے کیلئے پانی تو ملے گا ۔ لاک ڈاؤن کے بعد ملک کے کئی علاقوں میں اس طرح کی دردناک داستانیں سامنے آرہی ہیں ۔