تربیت حاصل کرنے والے امیدوار آبائی مقامات کو روانہ ، انتخابی مہم کے ذریعہ اخراجات نکالنے کا منصوبہ
حیدرآباد۔13۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست میں تقررات کے مسلسل التواء اور تقررات کے لئے منعقد ہونے والے امتحانات کے باربار ملتوی ہونے کے بعد جو نوجوان ڈی ایس سی ‘ گروپII اوردیگر امتحانات کی تیاری کے لئے شہر میں موجود تھے وہ اب اپنے مواضعات کو واپس ہونے کی منصوبہ بندی کر نے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اب جبکہ ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے تو ریاست میں کسی بھی طرح کے تقررات کا کوئی امکان نہیں ہے اور نہ ہی تقررات کے لئے امتحانات منعقد کئے جانے کی توقع ہے اسی لئے وہ اب سیاسی ریالیوں اور جلسوں میں شرکت کرتے ہوئے اپنی آمدنی کے متعلق غور کر رہے ہیں۔ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل نوجوان جو خانگی اداروں میں ملازمت اختیار کرسکتے ہیں وہ خانگی اداروں میں ملازمت تلاش کر رہے ہیں تاکہ انہیں آئندہ تین ماہ کے لئے کوئی ملازمت حاصل ہوجائے۔ شہر حیدرآباد کے مختلف اداروں میں مسابقتی امتحانات کی تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں ان کے ساتھ جس انداز سے مذاق ہوا ہے اس سے ان کا مستقبل تباہ ہوچکا ہے اب ریاست میں تہواروں کے موسم کے ساتھ ساتھ انتخابات کا موسم شروع ہوچکا ہے تو ایسے میں ان کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور ان اخراجات کی پابجائی کے لئے انہیں فی الحال سیاسی جماعتوں کے جلسے اور جلوس ہی واحد ذریعہ نظر آرہے ہیں کیونکہ فوری طور پر انہیں کسی بھی کمپنی میں ملازمت حاصل ہونے کے امکانات بہت کم ہیں ۔ گروپ I کے امتحانات جو کہ عدالت سے دو مرتبہ منسوخ ہوچکے ہیں ان کے دوبارہ انعقاد کے سلسلہ میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے لیکن امتحان تحریر کرنے والوں کو اس کے لئے دوبارہ تیاری کرنی ہوگی اسی طرح انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے نتیجہ میں ریاست میں ڈی ایس سی اور گروپ IIکے امتحانات کو ملتوی کیا جاچکا ہے ۔ امتحانات کی تیاری میں مصروف نوجوانوں کا کہناہے کہ اب تک وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے تھے لیکن اب جبکہ ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے اور بیشتر امتحانات ملتوی کئے جانے لگے ہیں تو ایسی صورت میں نوجوانوں کے جوش و خروش میں بھی کمی واقع ہونے لگی ہے۔ ذرائع کے مطابق جو نوجوان غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کی مدد سے تیاری کر رہے تھے وہ اپنے اپنے آبائی علاقوں کو واپس ہونے لگے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب امتحانات کے انعقاد کی تاریخ کا کوئی تعین نہیں ہے تو ایسی صورت میں خانگی ملازمت یا آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ نواحی علاقوں میڑچل ‘ ملکاجگری اور رنگاریڈی میں زائد از 10ہزار نوجوان مسابقتی امتحانات کی تعلیم و تربیت حاصل کر رہے تھے ۔مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ عدالتی رسہ کشی کا شکار ہونے والے امتحانات ہوں یا انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب ملتوی ہونے والے امتحانات اس کے لئے ریاستی حکومت ذمہ دار ہے کیونکہ ریاستی حکومت جب انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے قبل اپنے تمام ترقیاتی کاموں کی سنگ بنیاد تقاریب منعقد کرسکتی ہے اور سرکاری پروگرامس کی تکمیل کو یقینی بناسکتی ہے تو حکومت ان امتحانات کے انعقاد کے لئے بھی طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ نوجوانوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کے سلسلہ میں اقدامات کرسکتی تھی ۔