جامعہ نظامیہ کا فتویٰ، پیر سے مساجد کی کشادگی پر مصلیوں کیلئے رہنمایانہ خطوط
حیدرآباد۔/6 جون، ( سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کی رعایتوں کے پیش نظر 8 جون سے ریاست بھر میں مساجد کے بشمول دیگر عبادت گاہوں کو کھولنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ مساجد میں بھی باقاعدہ پنجوقتہ نمازوں کا آغاز ہوگا۔ حکومت نے احتیاطی تدابیر کے سلسلہ میں بعض رہنمایانہ خطوط جاری کئے تاہم مساجد میں نماز کی ادائیگی کے بارے میں مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں جنوبی ہند کی عظیم درسگاہ جامعہ نظامیہ نے آج دو علحدہ فتاویٰ کے ذریعہ مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے اور اسے مساجد کیلئے رہنمایانہ خطوط تصور کیا جاسکتا ہے۔ صدر مفتی مولانا محمد عظیم الدین نے باجماعت نماز کے دوران صفوں میں فاصلہ کی برقراری کو درست قراردیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شرعی اعتبار سے مصلیوں کا کندھے سے کندھا ملاکر کھڑا ہونا سنت ہے تاہم مسجد میں مقتدیوں کی صف کے درمیان فصل ہوجائے تب بھی اقتداء درست ہے اس لئے موجودہ وباء کے سلسلہ میں حفظِ ماتقدم کے طور پر اطباء کے مشورہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے تاختم وباء ، فاصلہ کے ساتھ صف بنائیں تو شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ اس فتویٰ میں سماجی دوری کی برقراری کو درست قرار دیا ہے۔ ایک اور فتویٰ میں مفتی محمد عظیم الدین نے ہاتھوں اور کپڑوں پر سنیٹائزر اسپرے کے بعد نماز کی ادائیگی سے متعلق سوال پر کہا کہ اگر سنیٹائزر میں کوئی نجس اور حرام چیز شریک نہیں ہے تو اسپرے کے بعد نماز درست ہے۔ کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے منہ اور ناک کو ڈھانکنے کیلئے حالت نماز میں ماسک کے استعمال سے متعلق سوال پر مفتی عظیم الدین نے کہا کہ حالت نماز میں ناک اور منہ پر کپڑا ڈھانکنا مکروہ تحریمی ہے تاہم ضرورتاً حفظِ ماتقدم کے تحت ماسک لگانے میں کوئی حرج نہیں بشرط یہ کہ پیشانی اور ناک زمین پر ٹکتے ہوں۔ واضح رہے کہ عبادت گاہوں کی کشادگی کے احکامات کے ساتھ حکومت نے بعض رہنمایانہ خطوط جاری کئے۔ مرکز کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق عبادت گاہوں میں مقدس کتابوں کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عبادت کے دوران سماجی رابطہ سے گریز کیا جائے۔ عبادت کیلئے مشترکہ جائے نماز یا میاٹ کے استعمال سے احتیاط کریں اور ہر شخص اپنی علحدہ جائے نماز ساتھ رکھے۔ حکومت کے رہنمایانہ خطوط کے پس منظر میں مساجد کمیٹیوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مساجد کے باب الداخلہ پر سنیٹائزر کا انتظام کیا جائے گا۔ بعض اسلامک اسکالرس نے 60 سال سے زائد عمر کے افراد اور 10 سال سے کم عمر بچوں کو مسجد میں آنے سے احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ مساجد میں طہارت اور وضو کیلئے کامن باتھ روم اور وضو خانہ کے استعمال کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا گیا کہ مصلی گھر سے وضو کے ساتھ مسجد پہنچیں۔