بابری مسجد کی شہادت سے 59 مساجد کی تعمیر تک کے سفر کا اختتام ۔ قلب پر حملہ کا شبہ
حیدرآباد : /22 جولائی (سیاست نیوز) بابری مسجد کی شہادت میں سرگرم حصہ لینے والے سابقہ کارسیوک بلبیر سنگھ جو مسلمان (محمد عامر) ہوگئے تھے ان کا پرانے شہر کے علاقہ حافظ بابا نگر میں انتقال ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحوم کے افراد خاندان دو دن قبل پڑوسی ریاست کرناٹک گئے ہوئے تھے اور آج واپس لوٹنے پر ان کے مکان میں مردہ پائے گئے ۔ شبہ کیا جارہا ہے کہ قلب پر حملہ سے محمد عامر کی موت ہوئی ہے جبکہ پولیس کنچن باغ نے بھی ان کی موت سے متعلق تفصیلات حاصل کئے ۔ محمد عامر نے 1993 ء میں اترپردیش مظفر نگر میں مولانا کلیم صدیقی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا اور مسلمان ہونے کے بعد سے انہوں نے مساجد کی تعمیر کیلئے سرگرم حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا اور سال 1994 ء میں ہریانہ میں پہلی مسجد مدینہ کا سنگ بنیاد رکھا ۔ محمد عامر شہر منتقل ہونے کے بعد حافظ بابا نگر سی بلاک میں مقیم تھے اور مساجد کی تعمیر کی مہم کے تحت 59 ویں مسجد رحیمیہ بالاپور میں تعمیری کام کا آغاز کیا تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ محمد عامر کا دو دن قبل انتقال ہوا ہے اور نعش مسخ ہوگئی تھی ۔ متوفی کے افراد خاندان آج شام اپنے مکان واپس لوٹنے پر یہ بات کا انکشاف ہوا اور پولیس کنچن باغ کی ٹیم وہاں پہنچ گئی اور مصروف تحقیقات ہے ۔