اٹاوہ سے برآمد، فینانس کمپنی کی عجیب کارروائی
لکھنؤ۔ فینانس کمپنیاں اپنے رقم کی وصولی کے لئے کئی طرح کے طریقے استعمال کرتی ہیں لیکن چہارشنبہ کی صبح جو آگرہ میں کیا گیا وہ نہایت ہی عجیب و غریب اور حیرن کن تھا۔ ایک پرائیویٹ کمپنی کے کچھ لوگوں نے ایک بین ریاستی سروس میں تعینات پرائیویٹ بس کو سفر کے دوران روک کر اپنے قبضہ میں لے لیا۔ کمپنی کے لوگوں نے ڈرائیور اور کنڈکٹر کو بس سے نیچے اتارا اور سواریوں سمیت بس کو لے کر چلتے بنے۔ بعد میں بس کو اٹاوہ سے برآمد کر لیا گیا۔اطلاعات کے مطابق بس ہریانہ کے گڑگاؤں سے مدھیہ پردیش کے پنّا کے سفر پر نکلی تھی۔ صبح کے وقت آگرہ میں کچھ لوگوں نے بس کو روکا اور ڈرائیور-کنڈکٹر کو نیچے اتار دیا۔ بس میں کل 34 مسافر سوار تھے جنہیں یہ لوگ اپنے ساتھ لے گئے۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر نے اس کی اطلاع پولیس کو دی۔ بس کا عملہ اور تمام مسافرین محفوظ ہیں۔ بعد میں آگرہ پولیس سربراہ ببلو کمار نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’بس کا ڈرائیور اور کنڈکٹر پولیس کے پاس آئے، انہوں نے بتایا کہ بس گڑگاؤں سے پنا (مدھیہ پردیش) جا رہی تھی۔ راستہ میں اسے فنانس کمپنی کے لوگوں نے روک لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس واقعہ کے لئے فنانسر ذمہ در ہے، ہم مقدمہ درج کر رہے ہیں۔