مسجد اقصیٰ سے سارے مسلمانوں کی اٹوٹ وابستگی

   

گولکنڈہ میں یوم قدس ، عہدیداران اسلامی جمہوریہ ایران اور مولانا سید متین علی شاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد 13مارچ (راست) مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ اس لیے اس تاریخی مسجد سے مسلمانوں کی اٹوٹ و دیرینہ وابستگی اور محبت ہے۔ مسجد اقصیٰ کا تعلق صرف فلسطینیوں سے نہیں ہے بلکہ سارے مسلمانوں سے ہے ان کی تکلیف و درد ہماری تکلیف و درد ہے اس لیے مسلمانان ہند ان کے ہر دکھ و درد میں ساتھ ہیں۔ یوم قدس اصل میں سیاسی دن نہیں ہے بلکہ یہ دن مظلوموں کی حمایت کا دن ہے جو مسجد اقصی کی بازیابی کیلئے صبر واستقامت کے ساتھ ڈٹے ہوے ہیں۔ ان خیا لات کا اظہار جامع مسجد اختری دلاور شاہ نگر قلعہ گولکنڈہ میں کثیر اجتماع سے قونصل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد آغا الحاج حمید احمدے نے کیا۔ جلسہ سالانہ یوم قدس آل انڈیا قرائت اکیڈیمی کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ جلسہ سالانہ یوم مسجد اقصی کی صدارت مولانا سید متین علی شاہ قادری صررآل انڈیا قرات اکیڈیمی وخطیب عید گاہ گنبدان قطب شاہی نے کی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے فرسٹ قونصل الحاج حمید احمدے قونصلیٹ جنرل ایران متعینہ حیدرآباد۔فرسٹ قونصل آغاحسن مقدمی اور بین الا قوامی شہرت یافتہ قاری الحاج آغا حسن حکیمی نے شرکت کی۔ قونصل جنرل ایران الحاج حمید احمدے نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوے کہا کہ آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ استکباری طاقتیں بالخصوص امریکہ اور صہیونی نہ صرف فلسطینی عوام پر ظلم و زیادتیاں کررہے ہیں بلکہ وہ اپنی جارحانہ پالیسی و پروگرام کے ذریعہ جنگ و جدال اور عدم استحکام کی طرف ڈھکیل رہے ہیں اور یہی طاقتیں آزاد اور خود مختار قوموں کو دبانے کے لیے دشمنی کی سیاست و پالیسی اختیار کررہی ہے اس سلسلہ میں عالمی استکبار امریکہ اور صہیونی یہودیوں کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ اور دشمنی اس بات کی علامت ہے کہ دشمن ایران کی آزادی اور اتحاد اور اللہ پر توکل کے ساتھ ہر قسم کے دباو اور دھمکیوں کا مقابلہ کرے گا۔ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ایران پر مسلط کردہ یہ جنگ جسے ماضی میں ایرانی قوم نے بھرپور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے انھیں کامیابی حاصل ہوئی تھی دوبارہ اللہ چاہے تو اس بار جنگ میں سرخروئی اور کامیاب ہوگی ۔ یوم مسجد اقصی کے موقع پر ہمارا پیغام واضح ہے کہ ہم مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں اور ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ وہ دن ضرور آئے گا جب مسجد اقصی آزاد ہوگی اورمظلوم قوموں کو ان کے حقوق ملیں گے۔ ابتداء میں مولانا سید متین علی شاہ قادری نے مہمانان اور شرکاء کاخیرمقدم کیا اور کہا کہ مسجد ہذا میں ہر سال یوم قدس منایا جاتا ہے تاکہ مسجد اقصیٰ سے وابستگی کے ساتھ اس کی بازیابی اور اسرائیل کی ظلم و زیادتی پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوتے اس ظلم کے چنگل سے نکال کر آزادی کے لیے فلسطینی عوام کے صبر و استقامت اور ان کی صحت کے لیے دعاوں کے ساتھ اظہار یگانگت کی جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ مسجد اقصی وہ مقام ہے جہاں رسول کریم صلی علیہ وسلم شب معراج میں انبیاء کی امامت فرمائی جس کی بنیاد پر مسجد اقصی سے مسلمانوں کا مذہبی و ایمانی رشتہ قائم ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ اسری میں مسجد اقصیٰ کا ذکر ہے جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ جلسہ کا آغاز قاری محمد منیب اور قاری سید نوراحمدشاہ قادری ہی قرائت کلام پاک سے ہوا۔ جناب عبدالرشید ارشد نے نعت شریف سنائی۔ بعد ازاں جناب افسر علی خان صدر انتظامی کمیٹی کے شکریہ پر جلسہ کااختتام عمل میں آیا۔