مسجد اقصیٰ پراسرائیلی جارحیت پر عرب ممالک کی مذمت

   

ریاض : سعودی عرب، یمن، متحدہ عرب امارات، عراق اور لیبیا نے مسجد الاقصی پر اسرائیلی فورسز کے حملے کی مذمت کی ہے۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کل نمازِ فجر کیدوران مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پولیس کے چھاپے پر ایک تحریری بیان کے ساتھ ردعمل کا اظہار کیا۔اسرائیل کی جانب سے تناؤ میں منظم اضافہ مسجد الاقصیٰ کے مقام پر واضح حملہ ہے کی وضاحت کرنے والے بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہیکہ وہ اسرائیل کی خلاف ورزیوں پر اپنی ذمہ داری پوری کرے۔یمنی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم مسجد الاقصی پر غاصب اسرائیل کے حملے اور نمازیوں سے جارحانہ مؤقف کی مذمت کرتے ہیں۔”بیان میں اسرائیل کے جبر کو دنیا کے تمام مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فلسطینی عوام کو اسرائیلی حملوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بھی تحریری بیان میں مسجد الاقصی پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کی گئی جس کے نتیجے میں عام شہری زخمی ہوئے۔عراقی وزارت خارجہ کے بیان میں اس واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہیکہ اسرائیلی فورسز فلسطین میں تشدد پھیلا کر شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا سبب بن رہی ہیں۔لیبیا کی ریاستی سپریم کونسل نے بھی اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔کونسل کی جانب سے ایک تحریری بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گزشتہ روز مسجد الاقصی پر چھاپے سے فلسطین میں مسلمانوں کی ہر چیز کو تباہ کرنے کے ان کے ارادے منظر عام پر آئے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی مذکورہ خلاف ورزیاں عرب ممالک کی خاموشی اور عالمی برادری کے دوہرے معیار کے سائے تلے ہوئی ہیں ہم فلسطینی عوام کی مسجد الاقصیٰ اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے جدوجہد کو سراہتے ہیں۔