مسلح جدوجہد کی خاتون رہنما چکلی ایلماں کو سرکاری خراج

   

مسلح جدوجہد کے ہیرو مجاہد آزادی مخدوم محی الدین کی خدمات کو حکومت نے فراموش کردیا

حیدرآباد ۔ 27 ستمبر (سیاست نیوز) مسلح جدوجہد کے ہیرو مجاہد آزادی مخدوم محی الدین کو حکومت نے نظرانداز کردیا جبکہ مسلح جدوجہد کی خاتون رہنما چکلی ایلماں کی یوم پیدائش اور برسی کو تلنگانہ حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر مناتے ہوئے انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔ سرکاری تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔ مختلف مقامات پر ان کے مجسمے تنصیب کئے گئے اور ساتھ ہی وزرا ء اور بی آر ایس کے قائدین نے ان کی بھرپور ستائش کی لیکن انقلابی شاعر مخدوم محی الدین کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہیکہ مخدوم محی الدین چیف منسٹر کے آبائی متحدہ ضلع میدک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا پیدائشی مقام اندول ہے۔ مسلح جدوجہد اور آزادی کی تحریک میں حصہ لینے والے مخدوم محی الدین 4 فبروری 1908ء کو پیدا ہوئے اور 25 اگست 1969 کو ان کی وفات ہوئی ہے لیکن تلنگانہ حکومت کی جانب سے ان کی تاریخ پیدائش اور موت کو سرکاری طور پر منانا تو دور چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے تعزیتی پیغام بھی جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی وزیر یا حکمران جماعت کے قائد کو مخدوم محی الدین کی یوم پیدائش اور برسی یاد رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے مختلف شعبوں میں مسلمانوں کو جس طرح نظرانداز کیا جارہا ہے، اسی طرح مسلم مجاہدین کو بھی فراموش کیا جارہا ہے۔ یقیناً چکلی ایلماں کی مسلح جدوجہد ناقابل فراموش ہے انہیں خراج عقیدت پیش کرنا بھی چاہئے لیکن اسی قطار میں مسلم ہیروز بھی ہے جن کی خدمات کو نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر شاعروں، ادیبوں، دانشوروں، مجاہدین اور تحریکات میں حصہ لینے والی شخصیتوں کا احترام کرتے ہیں مگر انہوں نے اپنے ہی آبائی متحدہ ضلع میدک کے عظیم سپوت مسلح جدوجہد اور تحریک آزادی کے ہیرو مخدوم محی الدین کو نظرانداز کردیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر ہندو اور مسلمان میری دو آنکھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور تلنگانہ میں گنگاجمنی تہذیب کو فروغ دینے کا اعلان کرتے ہیں مگر ان کے قول اور فعل میں تضاد نظر آتا ہے۔ن