حیدرآباد: وزیرِ اعلیٰ کے سی آر نے تلنگانہ کے ساتھ قدم قدم پر ہونے والی ناانصافیوں اور مرکز کی انتقامی کارروائیوں کو پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں موضوع بحث بنانے اور جائز حقوق کے لئے بڑے پیمانہ پر احتجاج درج کرانے کا ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کو مشورہ دیا۔ مرکزی حکومت کے آمرانہ پالیسیوں ، قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کی ہراسانیوں کو دونوں ایوانوں میں اٹھانے کی ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ ارکان راجیہ سبھا کو ہدایت دی۔ تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرنے پارلیمنٹ کی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی ضرورت پڑھنے پر اجلاسوں کا بائیکاٹ کرنے سے بھی گریز نہ کرنے پر زور دیا۔ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملہ کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث بناتے ہوئے بی جے پی کے اصلی چہرہ کو ملک کے عوام کے سامنے آشکار کرنے کے رہنمایانہ خطوط جاری کئے۔ چہارشنبہ سے پارلیمنٹ اجلاس کا آغاز ہورہا ہے جس کے پیش نظر وزیر اعلٰی کے سی آر نے پرگتی بھون میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ ارکان راجیہ سبھا کا اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر پارلیمانی پارٹی کے قائد ڈاکٹر کے کیشو راو ، لوک سبھا ٹی ار ایس پارٹی کے قائد ناما ناگیشور راو کے علاوہ دوسروں نے شرکت کی