پرتاپ گڑھ : پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ مرکزی حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے ،اور وہ وقف ایکٹ میں ترمیم کر اس پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہے ۔ اس میں سب سے قابل اعتراض تجویز یہ ہے کہ صوبائی حکومت وقف بورڈ میں ایک غیر مسلم چیف ایگزیکٹیو افسر اور کم از کم دو غیر مسلم ممبران کی تقرری کر سکے گی ۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حکومت نے کئی مندروں کے لئے ٹرسٹ و انتظامیہ کمیٹی بنائی ہے ،کیا ان میں کسی مسلمان کو ایگزیکٹیو افسر و ممبران کی تقرری کر کوئی مثال قائم کی ہے ؟ حکومت مسلم اوقافی جائداد کے وقف اکیٹ میں ترمیم کر اس کو غصب کرنے کی سازش کر رہی ہے ۔انہوں نے وقف ایکٹ کے ترمیمی بل کے متعلق اپنے ردعمل میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ حکومت کے مجوزہ بل میں ایک بڑی قابل اعتراض تبدیلی یہ ہے کہ اس میں ضلع جسٹریٹ کو مزید اختیار دیا گیا ہے ۔یہ سبھی کو معلوم ہے کہ ضلع مجسٹریٹ صوبائی حکومت کے ذریعہ تعینات کئے جاتے ہیں ،یہ تمام افسران حکومت کی ہدایت پر کام کرتے ہیں ،ایسے میں یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ وقف املاک پر ان کے کیا فیصلے ہوں گے ،جبکہ وقف جائداد وہ ہے جسے کوئی بھی مسلمان اپنی جائداد اللہ کے نام پر عطیہ کرتا ہے ،کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے ایسی جائداد کی نگرانی ایک ہی شخص کے خاندان کے افراد یا اس کی اگلی نسلیں کرتی ہیں ،مگر شریعت کے بموجب انہیں اس جائداد کو فروخت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔حکومت ایسی وقف املاک کو ریگولیٹ کرنے کے لئے وقف بورڈ و وقف ٹریبونل بنایا ہے ،مرکز کے علاوہ صوبہ میں بھی وقف بورڈ ہے ۔مگر حکومت نئے بل کے ذریعہ کسی بھی وقف املاک کی شکل ،استعمال اور ملکیت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ،اگر اس قانون پر عمل کیا گیا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مستقبل میں مسلمان اپنی جائداد اللہ کے نام پر عطیہ کرنے سے پرہیز کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ مذہبی امور میں مداخلت ہے ،جو مسلمانوں کو منظور نہیں ہے ۔یہ ہندو مسلم کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے آئین ،دستور ،سیکولرزم کا مسئلہ ہے ۔یہ بل ہماری مذہبی آزاری کے خلاف ہے ۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ حکومت حیلوں اور بہانوں سے مسلمانوں کو انتشار و خوف میں مبتلا رکھنے کے لئے ایسے ایسے نئے قانون لارہی ہے ،جس سے صریحا ہمارے مذہبی امور میں مداخلت ہے ،حکومت کو معلوم ہے کہ مسلمان ہر خسارہ برداست کر سکتا ہے ،مگر شریعت میں کوئی بھی مداخلت برداست نہیں کر سکتا ہے ،یہ بل آئین میں دی گئی آزادی کو چھیننے کے برابر ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وقف میں ترمیم کا ارادہ ترک کر آئین کی پاسداری کرے ۔