جانا ریڈی کے ہمراہ حضور نگر میں انتخابی مہم، علماء اور مسلم ذی اثر شخصیتوں سے ملاقات
حیدرآباد۔/12 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر اور اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر کے جانا ریڈی نے آج حضور آباد اسمبلی حلقہ کے مختلف علاقوں میں کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے مقامی علماء اور ذی اثر شخصیتوں سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کی تائید کی اپیل کی۔ اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا وشویشور ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔محمد علی شبیر اور جانا ریڈی نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں اقلیتوں کی بھلائی کیلئے جو اقدامات کئے گئے اس کی مثال کسی اور ریاست میں نہیں ملتی۔ کے سی آر حکومت گزشتہ چھ برسوں سے اقلیتوں کے ساتھ صرف وعدے کررہی ہے اور اسمبلی اور لوک سبھا میں تائید حاصل کرنے کے بعد دھوکہ دیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ چیف منسٹر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کیلئے نئی دہلی میں دھرنا دینے اور سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کرچکے ہیں لیکن آج تک کوئی احتجاج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو تحفظات کی فراہمی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وزیر اعظم سے اپنی حالیہ ملاقات کے دوران ایس ٹی تحفظات کا تذکرہ کیا لیکن مسلم تحفظات کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت کی اسکیمات کو نام تبدیل کرتے ہوئے عمل آوری کی جارہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جب مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں 50 فیصد سے زائد تحفظات پر عمل کی جاسکتا ہے تو پھر تلنگانہ میں یہ ممکن کیوں نہیں۔ دراصل چیف منسٹر کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کی فراہمی کو ایک کارنامہ قرار دیا اور کہا کہ بحیثیت وزیر اقلیتی بہبود انہوں نے تحفظات کی فراہمی کے عمل میں اہم رول ادا کیا۔4 فیصد تحفظات کے سبب ہزاروں مسلم نوجوانوں کو تعلیم و روزگار میں فائدہ ہوا۔ کئی ہزار انجینئرس اور سینکڑوں ڈاکٹرس تحفظات کے نتیجہ میں تیار ہوئے ہیں اور اپنے خاندانوں کی خوشحالی کا سبب بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو کے سی آر کے جھوٹے وعدوں کا شکار ہوئے بغیر حضور نگر میں کانگریس امیدوار پدماوتی ریڈی کی تائید کرنی چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ شکست کے خوف سے حکومت نے ٹی آر ایس کے حق میں سرکاری مشنری کو جھونک دیا ہے۔ حضور نگر کے گاؤں گاؤں دولت اور شراب پولیس کی نگرانی میں تقسیم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نگرکے عوام باشعور ہیں اور وہ دولت اور شراب کے لالچ میں نہیں آئیں گے۔ حضور نگر کی ترقی صرف کانگریس کی کامیابی میں ممکن ہے۔ اتم کمار ریڈی نے گزشتہ تین میعاد رکن اسمبلی کی حیثیت سے حضور نگر میں ترقیاتی کام انجام دیئے۔ محمد علی شبیر نے مقامی مسلمانوں کو تحفظات سے متعلق تاریخ پر مشتمل کتاب پیش کی۔ مقامی اقلیتی رائے دہندوں نے یقین دلایا کہ وہ کانگریس امیدوار کی تائید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی شکست کے ذریعہ کے سی آر کے غرور اور تکبر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ ٹی آر ایس کو ایک ووٹ بھی منتقل ہونے نہ دیں۔ حکومت نے تعلیم، صحت جیسے اہم شعبہ جات کو نظر انداز کردیا ہے۔ کے سی آر سیکولر قائد نہیں ہیں بلکہ انہوں نے خفیہ مفاہمت کے ذریعہ نریندر مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کی ہے جس میں شریعت میں مداخلت سے متعلق طلاق ثلاثہ بل شامل ہے۔ کوداڑ کی مقامی ذی اثر شخصیتوں نے کانگریس قائدین سے ملاقات کی۔ مولانا لطیف اور دوسروں نے مخاطب کیا۔