موجودہ 4 فیصد مسلم تحفظات کا سپریم کورٹ میں دفاع کرنے کے لیے ماہرین قانون اور وکلاء کی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نے سدھیر کمیٹی اور بی سی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر تلنگانہ کے مسلمانوں کو 9 تا 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا اور ساتھ ہی سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کے دفاع کے لیے ماہرین قانون و مشہور وکلاء کی ٹیم تیار کرنے پر زور دیا ہے ۔ دارالسلام میں تعلیمی کٹس کی تقسیم کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کو جو 4 فیصد تحفظات فراہم ہورہے ہیں وہ ناکافی ہے ۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے ۔ خاندانی جامع سروے میں اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ مجلس کی نمائندگی پر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ریاست میں مسلمانوں کی تعلیمی معاشی ، سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لیے 2016 میں سدھیر کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ سدھیر کمیٹی نے مختلف اجلاس منعقد کرنے کے بعد حکومت کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے ۔ جس کے اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں ۔ تمام شعبوں میں مسلمان پسماندہ طبقات سے بھی پسماندہ ہیں ۔ سدھیر کمیٹی نے تلنگانہ میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں جو 4 فیصد تحفظات حاصل ہورہے ہیں اس کو ناکافی قرار دیتے ہوئے 9 تا 12 فیصد تک توسیع دینے کی حکومت سے سفارش کی ۔ تلنگانہ حکومت نے اس سفارش کو بی سی کمیشن سے رجوع کیا ۔ بی سی کمیشن نے اس کا جائزہ لینے کے بعد مسلمانوںکو 12 فیصد تحفظات دینے کی حکومت کو سفارش کی ہے ۔ لہذا وہ ٹی آر ایس حکومت اور بالخصوص چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے 4 فیصد تحفظات میں سفارشات کے مطابق 9 تا 12 فیصد اضافہ کریں ۔ اسد الدین اویسی نے اپنے خطاب میں سدھیر کمیٹی کی سفارشات مختلف شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی تعلیم اور ملازمتوں میں مسلمانوں کی حصہ داری کو اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیا ۔ بیروزگاری کے تناسب کو پیش کیا اور کہا کہ مسلمان تحفظات کے حقدار ہیں ۔ پسماندہ طبقات کو تحفظات فراہم کرنے کی دستور نے تائید کی ہے ۔ اس کا گہرائی سے جائزہ لیا، ساتھ ہی وہ حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کے دفاع کے لیے ملک کے ماہرین قانون اور مشہور وکلاء کی خدمات سے استفادہ کریں ۔ 4 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کے لیے جو رپورٹس تیار کی گئی تھی ۔ اس کو اور سدھیر کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے ان دونوں رپورٹس کو ماہرین قانون کی ٹیم کے حوالے کریں تاکہ 4 فیصد مسلم تحفظات کا دفاع کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے تحفظات میں جو توسیع دی جارہی ہے ۔ اس پر بھی سنجیدگی سے غور کریں ۔ مرکزی حکومت نے ای بی سی طبقات کو 10 فیصد تحفظات فراہم کیا ہے جو 50 فیصد تحفظات سے تجاوز ہے اس پر بھی سپریم کورٹ میں بحث جاری ہے ۔ تاملناڈو کے علاوہ دوسری ریاستوں میں بھی تحفظات 50 فیصد سے زیادہ ہے ۔ اس کا بھی حوالہ دیں ۔ مجلس کے صدر ایس ٹی طبقات کے تحفظات کو 10 فیصد تک بڑھانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور ایس سی طبقات کے تحفظات میں بھی توسیع دینے کا مطالبہ کیا ۔۔ ن