مسلم تحفظات کی فراہمی طویل جدوجہد کا نتیجہ: محمد علی شبیر

   

ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار پی ایس کرشنن کو خراج، ممتاز شخصیتوں کی شرکت
حیدرآباد۔2 ڈسمبر (سیاست نیوز) مسلم قائدین نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش اور تلنگانہ ریاست میں مسلمانوں کو ملازمتوں اور تعلیم میں 4 فیصد تحفظات طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مستقبل میں مسلم تحفظات کی برقراری کے لیے عزم کا اظہار کیا اور سلسلہ میں اہم رول ادا کرنے والی انفرادی شخصیتوں اور تنظیموں سے اظہار تشکر کیا۔ سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار پی ایس کرشنن کو اظہار تعزیت پیش کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد کی تھی۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے آنجہانی پی ایس کرشنن کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ کرشنن نے حکومت کو مسلمانوں کی سماجی اور معاشی پسماندگی کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی تھی اسی کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے علیحدہ بی سی (ای) زمرہ بنایا گیا۔ کرشنن کی سفارشات کے نتیجہ میں حکومت نے قانونی دائو پیچ سے بچنے کے لیے مسلم تحفظات کو 5 فیصد سے گھٹاکر 4 فیصد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر رپورٹ کے لیے کرشنن کی خدمات حاصل کی تھیں۔ جون 2007ء میں انہوں نے رپورٹ پیش کی تھی۔ عمر کے 76 ویں برس میں بھی کرشنن نے مسلمانوں کے تحفظات کے لیے خود کو وقف کردیا تھا اور وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں روزانہ سماعت کے موقع پر موجود رہتے۔ محمد علی شبیر نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ مسلم تحفظات کی جدوجہد کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ 1989 میں وجئے بھاسکر ریڈی دور حکومت میں مسلم تحفظات کا آغاز ہوا تھا۔ اس وقت مخصوص طبقات کو تحفظات کی فراہمی کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات کے سلسلہ میں جن دیگر شخصیتوں نے اہم رول ادا کیا ان میں ریٹائرڈ آئی اے ایس جنت حسین کے علاوہ سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے بانیان امجد علی خان، غلام احمد اور نظام الدین احمد شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر وزارت رسول خان کی خدمات کو بھی خراج پیش کیا گیا۔ جلسہ سے سکریٹری سلطان العلوم سوسائٹی ظفر جاوید، سابق وزیر آصف پاشاہ، مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کے سکریٹری کے ایم عارف الدین اور دیگر ماہرین تعلیم نے مخاطب کیا۔