مسلم جامعات سے بی جے پی کا دشمنانہ رویہ

,

   

اقلیتوں کے دستوری حقوق کی کھلی خلاف ورزی، اترپردیش نمایاں

نئی دہلی: دستورہند کا آرٹیکل 30(1) اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اس حق کا اقلیتوں پر مذہب، زبان یا برادری کی بنیاد پر اطلاق ہوتا ہے۔ تاہم ، ہندوستان میں آج یہ حال ہوگیا ہیکہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کا کہنا ہیکہ ہم بچوں کو روایتی ملا یا عالم نہیں بلکہ سائنسی علوم کے ماہر بنانا چاہتے ہیں۔ خاص بات یہ ہیکہ چیف منسٹر یوپی کا یہ بیان محض چند روز بعد سامنا آیا ہے جبکہ بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں مسلم شخصیتوں کے ذریعہ چلائی جانے والی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے سربراہوں کو مشکوک الزامات پر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ صحافی جناب سید زبیراحمد نے اپنے ایک کالم میں اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی منافقت اور مخصوص تعلیمی ادارہ جات نیز جامعات کو یکے بعد دیگر نشانہ بنانے کی روش کو تفصیلی طور پر بیان کیا ہے۔ یہ حال مشرق میں آسام سے لیکر شمالی ہند میں اترپردیش ، وسطی ہند میں مدھیہ پردیش اور مغربی حصہ میں گجرات تک پھیل چکا ہے۔ 22 فبروری کی رات ڈرامائی انداز میں کارروائی کرتے ہوئے آسام پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس نے میگھالیہ کی نامور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے چانسلر ممتاز ماہر تعلیم محبوب الحق کی گوہاٹی میں واقع قیامگاہ پر دھاوا کیا اور انہیں امتحانات میں بدعنوانی کے الزامات پر حراست میں لے لیا۔ اسی روز راجستھان پولیس نے مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے چیرپرسن محمد عتیق غوری کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت ہورہی ہیں جبکہ مسلم کمیونٹی بدستور ہندوستان کے تعلیمی منظر پر کافی پستی میں پڑی ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ پہلے ہی نمایاں کرچکی ہیکہ صرف 4 فیصد مسلم اسٹوڈنٹس اعلیٰ تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسلمانوں کی تعلیم کے حصول میں حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے بی جے پی زیرقیادت حکومتیں صاف طور پر ظاہر ہوتا ہیکہ مسلم ملکیت والے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ یو پی میں یوگی حکومت محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بند کرنے کیلئے ہر ممکن حربہ استعمال کررہی ہے۔ اس کے بانی اعظم خان 2019ء سے سیتاپور جیل میں بند ہیں۔ بی جے پی ایک طرف کہتی ہیکہ وہ مسلم ایجوکیشن کا معیار بلند کرنے کی خواہاں ہیں لیکن دوسری طرف وہ مدرسوں کو بند کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔