مسلم ریزرویشن آئین کے خلاف ہے:امیت شاہ

   

ناندیڑ: وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہفتہ کو مہاراشٹرا کے ناندیڑ میں مسلم ریزرویشن پر اپنی پارٹی کی رائے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا ماننا ہیکہ مسلم ریزرویشن نہیں ہونا چاہئے۔ مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے نو سال مکمل ہونے پر بی جے پی کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر مہاراشٹرا کے ناندیڑ میں ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مسلمانوںکیلئے تحفظات آئین کے خلاف ہیں۔مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہوسکتا۔ ادھو ٹھاکرے کو اس پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ امیت شاہ کا بیان مہاراشٹرا میں فرقہ وارانہ تصادم کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس ریاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل اس وقت کی بی جے پی حکومت کی طرف سے پڑوسی ریاست کرناٹک میں مسلمانوں کے کوٹے کو ختم کرنے کے درمیان اہمیت کا حامل ہے ۔ امیت شاہ نے مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو بھی نشانہ بنایا۔ امیت شاہ نے کہا کہ ادھو جی ہم نے تین طلاق کو ہٹا دیا کیا آپ اس سے متفق ہیں یا نہیں؟ کیا آپ رام مندر بننے سے متفق ہیں یا نہیں؟ آپ واضح کریں ۔
کہ آپ کامن سول کوڈ چاہتے ہیں یا نہیں؟آپ بتائیں مسلم ریزرویشن ہونا چاہیے یا نہیں؟ کرناٹک میں آپ کے اتحادی ویر ساورکر کو تاریخ کی کتابوں سے ہٹانا چاہتے ہیں، کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ ادھو جی، آپ دو کشتیوں پر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان تمام نکات پر اپنی پوزیشن واضح کریں، آپ کا راز خود ہی کھل جائے گا۔2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ایک سال باقی ہے۔ آپ کیا چاہتے ہیں، ناندیڑ کے لوگ کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ دوبارہ مودی کی حکومت چاہتے ہیں؟ کیا مہاراشٹرا میں بی جے پی کو 45 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی؟ کیا آپ نریندر مودی کو دوبارہ وزیر اعظم بنائیں گے؟امیت شاہ نے کہاکہ آپ کی حمایت اور پی ایم مودی کی قیادت میں اعتماد تھا جس نے بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل کرنے اور کامیابی کے ساتھ نو سال مکمل کرنے میں مدد کی۔ 2024 میں آپ راہول گاندھی چاہتے ہیں یا نریندر مودی؟ ناندیڑ کے لوگ اس کا جواب دیں گے،‘‘امیت شاہ نے راہول گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف مودی جی دنیا میں ملک کو عزت دے رہے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس کے شہزادے راہول بابا ملک کی توہین کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہ یہاں نہیں بولتا، بیرون ملک جا کر بولتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ملک میں بہت کم بچے ہیں جو اس کی بات سنتے ہیں۔ راہول بابا کہا کرتے تھے کہ مودی کو ٹیکہ نہیں لینا چاہیے۔ جب سب لوگ ٹیکے لگوانے لگے تو رات کے اندھیرے میں جا کر ویکسین کروائی۔نریندر مودی جی نے ملک کی ثقافت اور تاریخ کا احترام کرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔آج وہ دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں مودی جی کے نعرے لگتے ہیں دنیا کا کوئی سربراہ انہیں باس کہتا ہے اور کوئی پاؤں چھوتا ہے۔ انہوں نے پوری دنیا میں ہندوستان کا پرچم لہرایا ہے۔ یہ اعزاز مودی جی کا نہیں ہمارے لوگوں کا ہے۔