مسلم کمیونٹی کو دھمکیوں پر خاطیوں کیخلاف کارروائی کب ہوگی :نسیم خان

   

ممبئی : مہاراشٹرا میں مہایوتی حکومت کی جانب سے لیے جا رہے اقلیت نواز فیصلوں کو آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مسلم ووٹرس کو رجحانے کا ایک قدم بتاتے ہوئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر نسیم خان کہا کہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے خوف سے بی جے پی شندے حکومت کو مسلمانوں کی یاد آگئی ہے ۔ انھوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ، بی جے پی شندے حکومت کے لیڈران مسلسل مسلم کمیونٹی کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، بلکہ ان کی حمایت کی جاتی ہے ۔ جہاں مدارس کو بند کرنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے ، صرف وقتی طور پر مسلمانوں کوخوش کرنے کیلئے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو دراصل مسلم ووٹرس پر نظر رکھ کر کیا گیا ہے ۔ نسیم خان نے کہا کہ مدارس میں ڈی۔ ایڈ اور بی۔ ایڈ اساتذہ کو دیے جانے والے معاوضے میں اضافے کا فیصلہ کابینہ کی میٹنگ میں لیا گیا ہے اور مولانا آزاد اقلیتی اقتصادی ترقی کارپوریشن کے شیئر کیپٹل میں بھی اضافہ
کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ بی جے پی شندے حکومت کا یہ فیصلہ مسلم کمیونٹی کی ترقی کی نیت سے نہیں لیا گیا ہے بلکہ یہ لوک سبھا انتخابات میں شکست کی وجہ سے آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر لیا گیا فیصلہ ہے ۔ پھر بھی ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ بی جے پی شندے حکومت کی ‘سب کا ساتھ، سب کا وشواس’ صرف باتیں ہیں، کبھی عمل میں نظر نہیں آئیں۔نسیم خان نے یہ بھی کہا کہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ، بی جے پی شندے حکومت میں ممبران اسمبلی اور لیڈران مسلسل مسلم کمیونٹی کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرتے ہیں۔ ان کے خلاف تھانے میں مقدمہ درج ہونے کے باوجود حکومت کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے ۔ بی جے پی-شندے کی حکومت جتنے بھی مقبول نعرے لگاتی ہے ، مسلم کمیونٹی ان کی غلط فہمیوں کا شکار نہیں ہوگی۔ بی جے پی شندے حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے ۔ وہ چند دنوں کے مہمان ہیں۔