سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے سے انکار ، مسلمانوں میں تشویش کی لہر
حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیان نے بابری مسجد معاملے کو ایک بار پھر قومی بحث کا مرکز بنادیا ہے ۔ ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ بابری مسجد کی تعمیر نو ممکن نہیں ہے اور اگر کوئی ایسی کوشش کرے گا تو اسے روکا جائے گا ۔ چیف منسٹر اترپردیش کے اس بیان کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں میں بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیوں کہ یہ معاملہ نہ صرف مذہبی جذبات سے جڑا ہوا ہے بلکہ دستوری اور عدالتی فیصلے سے بھی وابستہ ہے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019 کو اپنے تاریخی فیصلے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازعہ پر حکم سناتے ہوئے متنازعہ اراضی مندر کی تعمیر کے لیے دینے اور مسلمانوں کو متبادل کے طور پر ایودھیا کے دھنی پور علاقے میں 5 ایکڑ زمین فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ اس فیصلے کے بعد ’ مسجد ایودھیا ‘ منصوبہ سامنے آیا تھا ۔ جس میں مسجد کے ساتھ ہاسپٹل ، لائبریری اور میوزیم پر مشتمل ایک فلاحی و سماجی کامپلکس تعمیر کرنے کی تجویز شامل ہے ۔ حکام کے مطابق نظر ثانی شدہ منصوبے کے تحت اس کی تکمیل اپریل 2026 تک متوقع بتائی گئی تھی ۔ مسلم حلقوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئینی توازن اور قانونی حل کے طور پر قبول کیا گیا تھا ۔ اس لیے اب کسی بھی ایسے بیان سے خدشات جنم لیتے ہیں جو فیصلے پر عمل درآمد کے بارے میں شکوک پیدا کریں ۔ ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی احکامات پر مکمل اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔ کیوں کہ دستور کی بالادستی ہی جمہوری نظام کی بنیاد ہے ۔ چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان سے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا ہوا ہے کہ آیا دھن پور میں مجوزہ مسجد کی تعمیر طئے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھے گی یا نہیں ۔ دوسری جانب سماجی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو برقرار رکھنا بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جارہا ہے ۔۔ 2