مسلمان خود کفیل بن جائیں، ہر چیالنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں: عامر علی خان

   

ملت کے نوجوانوں کو ہنرمند بنانا اور روزگار سے جوڑنا ’’سیاست‘‘ کی کوشش، نظام آباد پھولانگ میں منعقدہ پروگرام سے خطاب
نظام آباد۔ 22 ا گست (محمد جاوید علی کی رپورٹ) رکن قانون ساز کونسل و نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے کہا کہ آزادی کے75 برس گزرنے کے باوجود اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خیر و برکت اور عزت و رزق کا اصل منبع صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند اور ریاست حیدرآباد کے ہندوستان میں انضمام کے بعد مسلمانوں کے سامنے یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ آیا یہاں رہنا چاہیے یا پاکستان کا رخ کرنا چاہیے، مگر ہمارے بزرگوں نے ہندوستان کو ہی اپنا وطن بنا کر یہیں رہنے کا فیصلہ کیا اور روزنامہ سیاست مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اس وقت شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ حالات بدلتے رہے۔ وسائل نہ رکھنے والے لوگ روزگار کی تلاش میں خلیجی ممالک روانہ ہوئے اور ان کی محنت سے یہاں کے کئی خاندانوں کے معاشی حالات بہتر ہوئے۔ بیڑی صنعت سے لے کر این آر آئی آمدنی تک کئی ذرائع نے مسلمانوں کو سہارا دیا۔ لیکن آج کے دور میں خاص طور پر گزشتہ دس برسوں کے حالات میں نفرت کی سیاست کو جس طرح پروان چڑھایا جا رہا ہے وہ باعث تشویش ہے۔ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ مسلمان معاشی طور پر مضبوط اور خود کفیل بنیں تاکہ ہر چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔جناب عامر علی خان نے قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رات کو سکون و آرام کے لیے اور دن کو محنت و مشقت کے لیے بنایا ہے لیکن آج انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کے بہانے فطرت کے نظام سے لڑ رہا ہے۔ رات کو جاگنے اور دن کو سونے کی عادت نے کئی بیماریوں کو جنم دیا ہے۔ دماغ سے نکلنے والے وہ کیمیکلز جو انسانی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت ضروری ہیں اگر وقت پر اپنی تاثیر نہ دکھا سکیں تو انسان مایوسی اور کمزوری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ کی مقرر کردہ فطری ترتیب کو اپنائیں، رات کو آرام اور دن کو محنت کے لیے استعمال کریں تاکہ ہماری زندگی سنورے اور ہم ایک مضبوط قوم کے طور پر ابھریں۔ ہیلپ ویلفیئر اینڈ ایجوکیشنل سوسائٹی پھولانگ کے ذمہ داروں کی جانب سے پھولانگ کے لیے قائم کردہ ٹیلرینگ سنٹر کی دوبارہ کشادگی کا مطالبہ کرتے ہوئے واقف کروانے پر جناب عامر علی خان نے کہا کہ سیاست کی جانب سے ہماری یہ کوشش ہے کہ عوام کو معاشی ترقی کے لیے بااختیار بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے ایک ایسا مرکز قائم کیا جائے جس میں مختلف ہنر سکھائے جائیں، مثلاً ٹیلرنگ، فیشن ڈیزائننگ اور کروشیا وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات میں ایک سنٹر قائم کر کے مختلف کورسز شروع کئے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے ایک فہرست تیار کی جائے گی جس میں ان خواتین اور نوجوانوں کے نام درج ہوں جو یہ ہنر سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ماہر ٹرینرز کو مدعو کر کے باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا جائے گا۔جناب عامر علی خان نے کہا کہ یہ پروگرام صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی مفید ہوگا جو روزگار نہ ملنے کے باوجود کوئی ہنر سیکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک فاؤنڈیشن کے تحت چھوٹے چھوٹے کاروباری منصوبے شروع کرائے جا رہے ہیں تاکہ افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ مثالی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری میں ایک باپ اور بیٹے نے آٹھ لاکھ روپے کی ضرورت ظاہر کی جس پر ان کی مدد کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ان کے پاس موجودہ نسخے سے آب شعلہ تیار کیا گیا اور چند ہی مہینوں میں روزانہ پانچ ہزار بوتل فروخت کر کے اپنا کاروبار کامیاب بنا لیا اور پھر اپنے دیگر رشتہ داروں کو بھی روزگار فراہم کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کسی کو معمولی سہارا مل جائے تو وہ اپنے ساتھ دوسروں کا مستقبل بھی سنوار سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نظام آباد میں کئی ایسے مواقع ہیں جہاں چھوٹے پیمانے پر کاروبار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایک بیکری میں شام کے اوقات میں تیار کی جانے والی اشیاء فوراً فروخت ہو جاتی ہیں، لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے زیادہ پیداوار ممکن نہیں۔ اگر ایسے افراد کو تھوڑی مدد فراہم کی جائے تو ان کا کاروبار مزید ترقی کر سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایک شخص آگے بڑھ کر قیادت کرے اور ذمہ داری سنبھالے۔جناب عامر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا منصوبہ سب سے پہلے نظام آباد سے شروع ہوگا اور اگر یہ کامیاب رہا تو پھر دوسرے شہر کے احمد پور کالونی وغیرہ میں بھی اس کو پھیلایا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں سے روشنی کی شمع روشن ہو اور پھر اس کی روشنی اطراف کے علاقوں تک پھیل جائے۔اس پروگرام کی کاروائی محمد ندیم قریشی نے چلائی اس جلسے کو محمد جنید ایڈوکیٹ نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں پھیلنے والی لعنت سے پاک سماج بنانے کے لیے منشیات سے دوری اختیار کرنے کی خواہش کی اور نوجوانوں کی رہنمائی اور قانونی طور پر مدد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اس پروگرام میں مدینہ مسجد کے صدر محمد جاوید علی، قریشی برادری کے صدر جاوید قریشی، ہیلپ ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر شیخ الماس،رفیع ٹیلر، تمیز خان، رحمن قریشی، قادر قریشی، عبد الفہیم، شیخ الیاس، ریاض پٹیل، شیخ نظام، سید نعیم، سلیم ، محسن قریشی، عقیل ، پاشاہ کے علاوہ آمنہ مسجد پھولونگ کے صدر جانی قریشی کے علاوہ دیگر بڑی تعداد میں شرکت کی اور جناب عامر علی خان کا زبردست خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی تہنیت پیش کی گئی۔