مسلمان سیاست میں حصہ داری کیلئے جدوجہد کر یں

   

پرتاپ گڑھ : ملک کی سیاست میں مسلمانوں کی حصہ داری نہ ہونے کے سبب آج اس کو مسلسل مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،اور مسلمانوں نے جن سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دے کر اقتدار کی دہلیز تک پہونچایا ہے ،صرف ان کے ووٹ بینک بن کر رہ گئے ہیں ۔ آج مسلم سماج کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے والی پارٹیاں ان کے مسائل پر لب کشائی تک سے پرہیز کر رہی ہیں ،مگر مسلمانوں کو ابھی بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ان کا کون ہمدرد ہے ،ایسے حالات میں مسلمانوں کو مبینہ سیکولر پارٹیوں کی تابعدار کو ترک کر صرف اپنی حصہ داری کیلئے اپنی قیادت کیلئے جدو جہد کرنے کی وقت کی اہم ضرورت ہے ،اسی میں ان کا مفاد ہے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے مسلم سماج کے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک کانگریس ،اس کے بعد سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی مسلم سماج کا ووٹ حاصل کر اقتدار حاصل کیا ،اور اس کے بدلے میں پریشانیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔مذکورہ پارٹیوں کے زیر اقتدار مسلمانوں کو کن حالات سے گزرنا پڑا ہے یہ کسی سے مخفی نہیں ہے ،مگر یہ پارٹیاں آر ایس ایس و بی جے پی کا مسلسل خوف دلا کر شکست و فتح کی سیاست کے تحت مسلم سماج کا ووٹ حاصل کرتی آرہی ہیں ۔
آئندہ پارلیمانی انتخاب میں انڈیا اتحاد و بی ایس پی کی مسلم سماج کے ووٹوں پر نظر ہے ،مگر مسلم سماج ابھی تک یہ نہیں سمجھ پایا ہے کہ وہ جس کو ووٹ دے رہے ہیں ،ان کے ہمدرد ہیں یا مخالف ۔حالات کے سبب اب مسلم سماج کو اپنے ہمدردوں و مخالفین کی شناخت کرنی ہوگی ،اور فیصلہ لینا یوگا کہ اب وہ ایسی پارٹی کو ووٹ کریں گے جو ان کو حصہ داری دے گی ،اور اپنی قیادت کے علاوہ مسلم سماج کو کوئی حصہ داری نہیں دے سکتا ہے ،اس لئے آج مسلم سماج کو اپنی قیادت کی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیس پارٹی ایک طویل عرصے سے مسلم مسائل کو لے کر میدان میں جدوجہد کر رہی ہے ،اور وقت وقت پر بے خوف آواز اٹھا رہی ،آج جبکہ مسلم ووٹ حاصل کرنے والی پارٹیاں خوفزدہ ،اور مسلم مسائل پر خاموش ہیں ،تو واحد سیاسی پارٹی پیس پارٹی مسلم مسائل پر پوری طرح سنجیدہ و آواز بلند کر رہی ہے ۔ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ مسلم سماج جب تک اپنی قیادت کو ترجیح نہیں دے گا ،اس کی پریشانی کم ہونے والی نہیں ہے ،اس لئے آئندہ پارلیمانی انتخاب میں اپنی حصہ داری کے لئے اپنی قیادت کی حمایت کر اپنے روشن سیاسی مستقبل کی راہ ہموار بنائیں ۔