مسلمانوں اور وقف سے متعلق وعدوں پر 6 سال میں عمل آوری ندارد

   

جوڈیشل پاور اور تحفظات کا وعدہ بھلا دیا گیا، محمد علی شبیر کی تنقید
حیدرآباد: سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے اقلیتوں سے متعلق اسمبلی میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا اور کہا کہ چیف منسٹر کے نزدیک اسمبلی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اسمبلی کو جمہوریت کی عبادت گاہ تصور کیا جاتا ہے اور اسمبلی میں کئے گئے اعلانات اور وعدوں کی تکمیل کے لئے حکومت پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے آج تک چیف منسٹر نے مسلم تحفظات کی فراہمی کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بارے میں بارہا اعلانات کئے لیکن ان کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ہر مسئلہ پر جھوٹے اعلانات اور تیقنات چیف منسٹر کی پہچان بن چکی ہے۔ 2014 ء میں پہلی مرتبہ چیف منسٹر کی حیثیت سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ کے سی آر نے کہا تھا کہ منشائے وقف کے مطابق وقف اراضیات کا استعمال کیا جائے گا ۔ وقف بورڈ کو جوڈیشل پاورس اور کھلی اراضیات واپس کرنے کا اعلان آج تک ادھورا ہے۔ 2016 اور 2017 ء میں کے سی آر نے مسلمانوں سے اپنے وعدوں کو دہرایا۔ اینٹی کرپشن کے ذریعہ وقف بورڈ کی تمام فائلیں ضبط کی گئیں اور ریکارڈ روم کو مہربند کردیا گیا تھا۔ حکومت نے آج تک وضاحت نہیں کی کہ کتنی فائلیں اے سی بی کے دھاوے میں حاصل ہوئیں اور کونسی فائلیں غائب ہیں۔ حکومت کی کارروائی کی تفصیلات سے عوام کو واقف کرایا جائے۔ 2018 ء میں چیف منسٹر نے اسمبلی میں وقف جائیدادوں پر اجلاس طلب کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ ان تمام وعدوں کی عدم تکمیل کے باوجود حکومت کی حلیف جماعت مجلس خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ حالیہ اسمبلی اجلاس میں برسر اقتدار پارٹی اور حلیف مجلس نے اوقافی جائیدادوں کے مسئلہ پر پھر ایک بار ڈرامہ بازی کی ۔ وقف کی 77,000 سے زائد اراضی کے رجسٹریشن کو روکنے کیلئے احکامات جاری کرنے کا تیقن دیا گیا تھا۔ میونسپل اور گرام پنچایتوں سے اجازت اور این او سی کو روکنے کیلئے محکمہ رجسٹریشن میں آٹو لاک کرنیکا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ عادل آباد میں 32 ایکر وقف اراضی کو سرکاری قرار دیتے ہوئے عہدیداروں نے پٹہ جات جاری کردیئے ۔ وقف اور ریونیو کے درمیان 14,000 تنازعات برقرار ہیں جن کی یکسوئی نہیں کی گئی۔ کانگریس قائد نے کہا کہ چیف منسٹر اقلیتوں کے مسائل پر جھوٹے بیانات کے ماہر ہوچکے ہیں اور انہیں اسمبلی کا احترام ملحوظ نہیں ہے ۔ چیف منسٹر کو جھوٹے بیانات کیلئے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا جانا چاہئے ۔