مضافاتی علاقہ کولور میں 15600 مکانات تیار۔ الاٹمنٹ میں وعدہ کی تکمیل کا موقع۔ عوامی نمائندے حرکت میں آئیں
حیدرآباد۔19۔جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں تعمیر ہونے والے ڈبل بیڈ روم مکانات میں 10 فیصد مکانات مسلمانوں کو مختص کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس وعدہ پر بھی عمل نہ کئے جانے کی متعدد شکایات مل رہی ہیں اور اب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں کولورو (شیرلنگم پلی ) علاقہ میں تعمیر کئے گئے 15 ہزار 600 ڈبل بیڈ روم مکانات کی حوالگی کی تیاریاں کی جار ہی ہیں ۔ جی ایچ ایم سی نے 2022 ڈسمبر میں ان مکانات کی تعمیر کے مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن ان مکانات کی حوالگی کے اب تک اقدامات نہیں کئے گئے لیکن اب جبکہ انتخابات قریب ہیں اور حکومت سے ان ڈبل بیڈ روم مکانات کی حوالگی کے اقدامات کا آغاز کیا جا رہاہے ۔ کولور میں ان 15600 ڈبل بیڈ روم فلیٹس کا جملہ رقبہ 120ایکڑ ہے جس میں 117بلاک تعمیر کئے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جی ایچ ایم سی حدود میں تعمیر کی گئی اس کالونی میں 5ڈبل بیڈ روم مکانات حوالہ کرکے اس کا افتتاح عمل میں لایا گیا تھا لیکن اب جبکہ مکمل کالونی تیار ہوچکی ہے اس میں موجود ڈبل بیڈ روم مکانات کی تخصیص و حوالگی کے اقدامات جاری ہیں۔ 24اکٹوبر 2017 کو چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا تھا اور اس اجلاس میں کئے گئے مختلف وعدوں اور ہدایات میں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی اسکیم میں 10 فیصد مکانات مسلمانوں کو مختص کرنے کی ہدایت شامل تھی لیکن اب تک جن پراجکٹس میں مکانات الاٹ کئے گئے ہیں ان میں مسلمانوں سے وعدہ کے مطابق حصہ فراہم کرنے میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی ہدایا ت کے مطابق مسلمانوں کو حصہ کی فراہمی کے سلسلہ میں کوئی عہدیدارتفصیلات دینے کے موقف میں نہیں ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ضلع سنگاریڈی اور حیدرآباد کی سرحد پر موجود آؤٹر رنگ سے متصل یہ پراجکٹ اب تک کی تعمیرات میں سب سے قیمتی اور بڑا پراجکٹ ہے اگر 10 فیصد کے اعتبار سے مسلمانوں کو اس پراجکٹ میں ڈبل بیڈ روم فلیٹ الاٹ کئے جاتے ہیں تو مسلمانوں کو 1560 کم از کم فلیٹس حاصل ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے انتخابات کے اعلان سے قبل اس کالونی کے افتتاح کی تیاریاں کی جار ہی ہیں جس میں 117بلاکس میں لفٹ ‘ پینے کے پانی ‘ زیر زمین کیبل سسٹم‘ کے علاوہ دیگر سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی ہے۔ منتخبہ عوامی نمائندے بالخصوص جن کی چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ تک رسائی ہے وہ اس معاملہ میں فوری مداخلت کرتے ہیں تو اس کا مسلمانوں کو خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔