کشمیر پر حکومت کا فیصلہ تشویشناک ، آندرے کارسن کا ردعمل
حیدرآباد۔12ڈسمبر(سیاست نیوز) شہریت ترمیم بل کے دونوں ایوانوں میں منظور کرلئے جانے پر امریکی کانگریس مین آندرے کارسن نے گہری تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان میں شہریت ترمیم بل ہندستان میں مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی منظم سازش ہے جو کہ عالمی قوانین کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ مسٹر آندرے کارسن نے کہا کہ ہندستان میں مسلم اقلیت کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی یہ ایک اور کوشش ہے ۔ انہو ںنے بتایاکہ جموں وکشمیر کے خصوصی موقف کو منسوخ کرنے کیلئے حکومت نے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے ذریعہ انسانی حقوق کو پامال کیا گیا تھا اور اس وقت بھی انہوں نے ہندستانی حکومت کے فیصلہ پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔آندرے کارسن نے کشمیر پر حکومت کے موقف کو انتہائی خطرناک رجحان کی ابتداء قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ہند عالمی قوانین کو بالائے طلاق رکھتے ہوئے اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے جو کہ شہریوں کے حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔امریکی کانگریس مین نے کہا کہ حکومت نے اب جو شہریت بل میں ترمیم کے فیصلہ کے ذریعہ افغانستان‘ بنگلہ دیش اور پاکستان کی اقلیتوں کو ہندستانی شہریت کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے وہ سراسر ہندستانی اقلیتوں کو دوسرے درجہ کے شہری بنانے کی کوشش کے مترادف ہے ۔ انہوں نے اس قانون کو مسلمانوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے سیکولر اقدار پامال ہوسکتے ہیں اسی لئے عالمی برادری کو اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہندستان میں موجود مسلمانوں میں پیدا ہونے والے خدشات کو دور کیا جاسکے ۔مسٹر آندرے کارسن نے شہریت ترمیم قانون کو ظالمانہ اور سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قوانین عوام میں اضطراب و بے چینی پیداکرنے والے ہوتے ہیںجس سے بد امنی کے خدشات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد ہندستان نے دنیا کو واضح طور پر یہ کہا تھا کہ وہ ہندستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور کشمیر ہندستان کا داخلی معاملہ ہے اور پاکستان سے بھی یہی کہا گیا تھا اور اب حکومت ہند کی جانب سے شہریت ترمیم بل کے ذریعہ ایک نیا ظالمانہ قانون تیار کیا گیا ہے جو کہ ملک میں بسنے والی اقلیتی آبادی یعنی مسلمانوں کو دوسرے درجہ کے شہری بنانے میں کلیدی کردار اداکرے گا اور اس معاملہ کو بھی حکومت کی جانب سے داخلی معاملہ قرار دیا جائے گا۔