ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتر محمد کا میکرون کے خلاف شدید ردعمل
کوالالمپور: ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتر محمد نے کہا کہ ماضی کے قتل عام کیلئے مسلمانوں کو برہم ہونے اور لاکھوں فرانسیسی عوام کو قتل کرنے کا حق حاصل ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانیوئل میکرون سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان کے رویہ سے یہ ظاہر ہی نہیں ہورہا ہے کہ وہ مہذب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی کرنے والے ٹیچر کی ہلاکت پر وہ اسلام اور مسلمانوں کو موردالزام ٹھہرا رہے ہیں۔ مہاتر محمد کے اس بیان نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹس میں گستاخانہ کارٹونس شائع کرنے والے فرنچ میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ پر مسلمانوں کے پرتشدد ردعمل کو حق بجانب قرار دیا۔ چیچنیا کے 18 سالہ طالب علم نے حال ہی میں فرانس میں ایک ٹیچر کا گلا کاٹ کر قتل کردیا جس نے حضورؐ کے گستاخانہ کارٹونس دکھائے تھے۔ مہاتر محمد نے کہا کہ بحیثیت مسلمان میں اس قتل کی حمایت نہیں کرسکتا لیکن آزادیٔ اظہار خیال میں میرا ایقان ہے کہ اس میں دوسروں کی توہین نہیں کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ایک برہم مسلم نوجوان کی کارروائی کیلئے تمام مسلمانوں اور اسلام کو ذمہ دار ٹھہرانے کے خلاف فرانس کے صدر میکرون کو انتباہ دیا۔ بائیکاٹ کرنا گزشتہ برسوں میں فرانس کی جانب سے کی گئی غلطیوں کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
