سپریم کورٹ میں شہریت ترمیمی قانون کے جواز پر فیصلہ اہم رہے گا، ڈیٹینشن سنٹروں کی نوبت پرخانہ جنگی کا اندیشہ
نئی دہلی ۔ 13 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے جمعرات کو کہا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے دستوری جواز کو سپریم کورٹ حق بجانب قرار دے اورناخوشگوار حالات میں مسلمانوں کو ڈیٹینشن سنٹر میں بھیجنے کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو زبردست عوامی تحریک ضرور شروع ہوگی۔ سابق مرکزی وزیر نے یہاں جے این یو کیمپس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے آسام میں این آر سی کی ناکامی کا نتیجہ ہے جہاں 19 لاکھ افراد دستاویزات کے بغیر پائے گئے۔ چدمبرم نے یہ دعویٰ کیا کہ 19 لاکھ افراد میں سے 12 لاکھ ہندوؤں کو ہندوستانی شہریت دینے کیلئے سی اے اے لایا گیا ۔ آسام میں ان ہندوؤں کو این آر سی میں شامل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ فاضل عدالت کی جانب سے سی اے اے کو برقرار رکھنے کی صورت میں بہترین لائحہ عمل کے بارے میں ایک اسٹوڈنٹ کے سوال پر چدمبرم نے کہا کہ جب وہ این آر سی سے باہر والوں پر ہاتھ ڈالیں گے تو وہ صرف مسلمان ہوں گے ۔ ان کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں نکال باہر کیا جائے گا ۔ انہیں بے مملکت قرار دیا جائے گا ۔ ایسے حالات میں زبردست عوامی تحریک ضرور شروع ہوگی جو کسی بھی مسلم کو نکال باہر کرنے یا ڈیٹینشن کیمپس میں رکھنے سے روکے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کا ماننا ہے کہ سی اے اے کو ضرور منسوخ کرنا چاہئے اور سیاسی جدوجہد ہونا چاہئے کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر ) کو 2024 ء کے بعد تک ٹال دیا جائے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ سی اے اے کو لانے کا سبب آسام میں این آر سی کی ناکامی ہے اور سی اے اے کی مخالفت نے این پی آر کے لئے راہ ہموار کی۔