مسلمانوں کو نشانہ بنانے بی جے پی کی متنازعہ فلم ، تلنگانہ انتخابات پر رضاکار

   

ٹریلر کی اجرائی کے ساتھ ہنگامہ، وزیر کے ٹی آر کا سخت اعتراض، فلم سنسر بورڈ سے رجوع ہونے کا اعلان

حیدرآباد 18 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں انتخابات کے پیش نظر بی جے پی ماحول کو فرقہ وارانہ بناتے ہوئے پرامن فضاء کو بگاڑنے اور سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے پولیس ایکشن پر مبنی فلم رضاکار (Razakar) تیار کیا ہے۔ اس فلم کا ٹیزر جاری ہوتے ہی متنازعہ ہونے کے ساتھ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی ہے۔ اس فلم کو تیا ستیہ نارائنا نے ڈائرکٹ کیا ہے اور گڈورو نارائن ریڈی نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس فلم کے ٹریلر کو دیکھیں تو 1948 ء میں نظام حکومت کے خاتمہ کے بعد انھوں نے پولیس ایکشن جیسی صورتحال پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس فلم میں مسلمانوں کو ظالم اور بڑے مجرم کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہر علاقہ میں مساجد تعمیر کرنے، اسلامی پرچم بلند کرنے، تلگو اور مراٹھی زبان کو نصاب سے ہٹاتے ہوئے اس کی جگہ عربی اور اُردو پڑھانے کی زبردستی کوشش کرنے، خواتین کی عصمت ریزی، قتل و غارت گری کا ننگا ناچ دکھاتے ہوئے مسلمانوں کو ظالم اورہندوؤں کو مظلوم قوم کے طور پر دکھاتے ہوئے حیدرآباد کو اسلامی مملکت میں تبدیل کرنے کی کوشش کو دکھایا گیا ہے۔ 17 ستمبر کو سقوط حیدرآباد کی تقریب کے موقع پر یہ ٹیزر جاری کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جب بھی ملک کی کسی ریاست میں اسمبلی انتخابات ہوتے ہیں بی جے پی کی جانب سے اس طرح کی فلمیں ریلیز کرتے ہوئے سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب مغربی بنگال کے انتخابات منعقد ہونے والے تھے تب ’’کشمیر فائیلس‘‘ ریلیز کی گئی۔ کرناٹک انتخابات کے موقع پر ’’دی کیرالا اسٹوری‘‘ فلم ریلیز کی گئی۔ اب تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں تو مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنے کے لئے ’’رضاکار‘‘ فلم تیار کی گئی ہے۔ فلم کا متنازعہ ٹیزر منظر عام پر آتے ہی محمد مبشرالدین خرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (X) ایکس پر اس کا ٹیزر پیش کرتے ہوئے تلنگانہ سی ایم او، ریاستی وزراء کے ٹی آر، ہریش راؤ، محمد محمود علی، ڈی جی پی اور حیدرآباد پولیس کمشنر کو ٹیاگ کرتے ہوئے اس فرضی پروپگنڈہ فلم (Razakar) کی ریلیز کو روکنے، شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کے امن و امان کی حفاظت کرنے کی اپیل کی اور کہاکہ اس فلم کے ذریعہ نفرت پیدا ہوسکتی ہے۔ سوشل میڈیا بالخصوص (X) ایکس پر سرگرم رہنے والے بی آر ایس کے ورکنگ پریسڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے اس پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ چند فکری طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہونے والے بی جے پی کے جوکر تلنگانہ میں اپنے سیاسی پروپگنڈے کے لئے فرقہ وارانہ تشدد اور پولرائزیشن کو ہوا دینے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ ہم اس معاملہ کو سنسر بورڈ اور تلنگانہ پولیس سے رجوع کریں گے تاکہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو یقینی بنایا جاسکے۔ ن