مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے سدرشن ٹی وی کو نوٹس

   

سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کا بیان ،بن داس بول شو کیخلاف سماعت 5 اکٹوبر تک ملتوی
سدرشن ٹی وی کا یو پی ایس سی جہاد شو پروگرام کوڈ کے مغائر :مرکز

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے اور سیول سرویس میں مسلمانوں کی دراندازی کے الزامات عائد کرکے ’’بن داس بول‘‘ شو پیش کرنے پر سدرشن ٹی وی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ سدرشن ٹی وی کے یو پی ایس سی جہاد شو کو پیش کرکے پروگرام اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔ سدرشن ٹی وی نے اپنے شو میں یو پی ایس سی مسلم جہادی کے عنوان سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ بیرونی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے مسلمانوں کو آئی اے ایس اور آئی پی ایس بنانے کی ٹریننگ دینے فنڈنگ کی جارہی ہے۔ 15 ستمبر کو جسٹس بی وائی چندرچوڑ کی زیرقیادت ججس کی تین رکنی بنچ نے سدرشن ٹی وی کے شو ’’بن داس بول‘‘ کی مزید ٹیلی کاسٹ پر پابندی لگادی تھی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی عائد کرنے تک اس شو کے 4 ایپی سوڈ ٹیلی کاسٹ کئے جاچکے تھے۔ جسٹس چندرچوڑ نے سالیسیٹر جنرل تشارمہتا سے کہا کہ اگر عدالت مداخلت نہیں کرتی تو اب بھی یہ پروگرام جاری رہے گا۔ تشارمہتا نے عدالت کو بتایا کہ 23 ستمبر کو ہندی چینل سدرشن کو نوٹس جاری کی جاچکی ہے۔ مہتا نے کہا کہ عدالت کی مداخلت عام طور پر آخری حل کیلئے کی جاتی ہے۔ عدالت نے قانونی عہدیدار کی داخل کردہ اس بات سے اتفاق کیا کہ اس کیس میں مزید سماعت کو مؤخر کردیا جائے۔ چینل کو اس وجہ بتاؤ نوٹس کا جواب دینے کیلئے 28 ستمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ سدرشن ٹی وی کے خلاف کی جانے والی کارروائی سے متعلق رپورٹ داخل کرے۔ بنچ نے اس کیس کی سماعت 5 اکٹوبر تک ملتوی کردی۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے پروگرام کے ٹیلی کاسٹ پر 15 ستمبر کو جو پابندی عائد کی تھی وہ جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ کی یہ بنچ مختلف سوالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اندو ملہوترا اور جسٹس کے ایم جوزف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے فیروز اقبال کی درخواست کی اگلی سماعت کیلئے 5 اکتوبر دوپہر 2 بجے کا وقت مقرر کیا۔