حسن آباد ، حضورآباد اور چپہ دنڈی میں اقلیتوں کے جلسوں سے خطاب
حیدرآباد 23 نومبر (سیاست نیوز) وزیرداخلہ محمد محمود علی نے کہاکہ تلنگانہ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی پسماندگی کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے۔ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس نے 50 برس تک حکومت کی اور مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔ وزیرداخلہ آج اسمبلی حلقہ چپہ دنڈی، حسن آباد اور حضورآباد میں بی آر ایس امیدواروں کے حق میں اقلیتوں کے جلسوں سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس نے 50 برسوں تک اقلیتی بہبود کے لئے جو بجٹ خرچ کیا اور اسکیمات پر عمل کیا گیا اُس سے کہیں زیادہ کے سی آر نے 9 برسوں میں انجام دیا ہے۔ ملک کی کم عمر ریاست تلنگانہ میں کے سی آر کی دور اندیش قیادت نے ریاست کو ہر شعبہ میں نمبر ون مقام تک پہنچادیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اقلیتوں کی ترقی اور بھلائی کی اسکیمات کی مثال ملک کی کوئی اور ریاست پیش نہیں کرسکتی۔ وزیرداخلہ نے کہاکہ تلنگانہ میں تیسری مرتبہ بی آر ایس حکومت کی تشکیل یقینی ہے۔ کانگریس پارٹی پر عوام ہرگز بھروسہ نہیں کریں گے۔ تلنگانہ ملک کے لئے رول ماڈل ہے۔ کے سی آر نے انتخابی وعدوں سے زیادہ اقلیتوں کی بھلائی کے لئے اقدامات کئے۔ 10 برسوں میں 12 ہزار کروڑ بجٹ اقلیتی بہبود پر خرچ کیا گیا جبکہ کانگریس نے 10 برسوں میں محض 950 کروڑ خرچ کئے تھے۔ جاریہ سال اقلیتی بہبود کے لئے 2200 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت 2.77 لاکھ غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے لئے 2347 کروڑ جاری کئے گئے۔ 204 اقامتی اسکولس اور جونیر کالجس نے ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ وزیرداخلہ نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ بی آر ایس امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ ریاست میں اقلیتوں کی ترقی کا تسلسل جاری رہے۔