سپریم کورٹ میں پیروی کے لیے وکلا ڈاکٹر رجیودھون اور راکیش دیویدی کے ساتھ مسلم وکلاء کا تقرر ، وزیر داخلہ تلنگانہ کا بیان
حیدرآباد۔8 ۔ستمبر۔(سیاست نیوز) ریاستی حکومت مسلمانوں کے تحفظات کی برقراری کے سلسلہ میں مکمل طور پر سنجیدہ ہے اور حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں تحفظات کے دفاع کے لئے پیروی کرنے والے سینیئر و تجربہ کار وکلاء کو مقرر کیا گیا ہے۔جناب محمد محمود علی ریاستی وزیر داخلہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات کی پیروی کر رہے وکلاء ڈاکٹر رجیو دھون اور مسٹر راکیش دیویدی کے مددگار کے طور پر دو مسلم وکلاء جناب شمس الدین اور جناب نظام الدین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں 4فیصد مسلم تحفظات کی برقراری کے لئے مدلل بحث کے ذریعہ ان کی برقراری کو یقینی بنائے گی ۔انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مسلم تحفظات کی برقراری کیلئے سدھیر کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ مسلمانوں کی بنیادی صورتحال ان کے سماجی ‘ معاشی اور تعلیمی مسائل کے سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی ہے اور اس رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں مسلمانوں کی حالت پسماندہ طبقات‘ دلتوں اور قبائیلی طبقات سے بھی ابتر ہے اسی لئے ان کے تحفظات کی برقراری کے سلسلہ میں پوری قوت کے ساتھ مسلم تحفظات کے دفاع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جناب محمد محمود علی نے کہا کہ ریاستی حکومت سپریم کو رٹ میں جاری مقدمہ میں مؤثر پیروی کے ذریعہ تحفظات کی برقراری کو یقینی بنانے کے لئے مقدمہ میں پیروی کرنے والے وکلاء کے ساتھ ساتھ دیگر ماہرین قانون اور تحفظات کے سلسلہ میں خدمات انجام دینے والی تنظیموں کی ذمہ داروں سے قانونی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔انہو ںنے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلم تحفظات کے سلسلہ میں مکمل طور پر سنجیدہ ہیں اور سپریم کورٹ کی جانب سے مسلم تحفظات پر سنوائی کے لئے دیئے گئے 8 گھنٹوں کے دوران مختلف ریاستوں میں جہاں مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے جا رہے ہیں انہیں بحث میں حصہ لینے کا موقع حاصل ہوگا ۔انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں مباحث کے دوران مسلمانوں کی سماجی و معاشی حالت کے علاوہ تعلیمی صورتحال کے متعلق تیار کردہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے ریاست میں جاری 4 فیصد مسلم تحفظات کا دفاع کیا جائے گا۔م