مسلمانوں کے خلاف ڈی اروند سے منسوب بیان غلط ثابت

   

سوشیل میڈیا میں فرضی پوسٹ، مسلمانوں سے گمراہ نہ ہونے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کی اپیل

حیدرآباد۔/24اکٹوبر، ( سیاست نیوز) بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی سے متعلق سوشیل میڈیا میں وائرل خبروں کی تردید کی ہے۔ ایک تلگو روز نامہ کے ٹائٹل کے ساتھ اروند کا بیان سوشیل میڈیا میں گزشتہ دو دنوں سے وائرل ہورہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حضورآباد ضمنی چناؤ میں کامیابی کے بعد مسلمانوں کے ساتھ برا سلوک کیا جائے گا۔ اس پوسٹ کے وائرل ہوتے ہی مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوگئی اور نظام آباد میں مسلمانوں نے رکن پارلیمنٹ کے خلاف پولیس میں نفرت انگیز تقریر پر شکایت درج کرائی ہے۔ ڈی اروند نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس کے آئی ٹی سیل نے ایک سازش کے تحت یہ مواد تیار کرتے ہوئے وائرل کیا تاکہ مسلمانوں کو راجندر کی تائید سے روک دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ کے ٹی راما راؤ اس سازش میں ملوث ہیں کیونکہ وہی آئی ٹی سیل کے نگرانکار ہیں۔ اروند نے کہا کہ پوسٹ دیکھنے کے بعد انہوں نے مذکورہ تلگو اخبار کا مشاہدہ کیا جس میں ان کا کوئی بیان نہیں تھا۔ انہوں نے اخبار کے ذمہ داروں سے ربط قائم کیا جس پر انہوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا اور اخبار کی جانب سے کریم نگر پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔ ڈی اروند نے بتایا کہ حضور آباد میں مسلم رائے دہندوں کی راجندر کو تائید سے بوکھلاہٹ کا شکار ٹی آر ایس نے ایک سازش کے تحت نفرت انگیز بیان ان سے مربوط کرتے ہوئے وائرل کیا ہے۔ سوشیل میڈیا میں پوسٹ کرنے والے افراد کے خلاف پولیس کارروائی کی جائے گی اور اس سلسلہ میں پولیس کے سائبر کرائم میں شکایت درج کرائی جائے گی۔ اروند نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بی جے پی کی پالیسی بھی یہی ہے کہ تمام طبقات کے ساتھ ملکر کام کیا جائے۔ بی جے پی دیگر طبقات کی طرح مسلمانوں کی بھلائی اور ترقی میں سنجیدہ ہے اور نریندر مودی حکومت نے مسلمانوں کیلئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ سینئر سیاستداں ڈی سرینواس کے فرزند ڈی اروند نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس گمراہ کن پوسٹ کا شکار نہ ہوں۔ر