مسلمانوں کے عائلی مسائل کی یکسوئی کیلئے محلہ واری سطح پر کمیٹی کی تجویز

   


جہیز کی لعنت کا خاتمہ ضروری، بیجا رسومات کی تقاریب کا بائیکاٹ، مولانا جعفر پاشاہ کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔ امیر امارت ملت اسلامیہ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے مسلمانوں کے داخلی اور بالخصوص عائلی مسائل کی یکسوئی کیلئے محلہ واری سطح پر کمیٹیوں کے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ سماج میں جوڑے اور جہیز کی لعنت کے علاوہ خودکشی کے واقعات کو روکا جاسکے۔ مولانا جعفر پاشاہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں جوڑے اور جہیز کی لعنت کے نتیجہ میں خواتین کی خودکشی کے واقعات پیش آرہے ہیں اس کے علاوہ خواتین کو ہراسانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لعنت کے سبب غریب گھرانوں کی لڑکیاں شادی سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم سماج میں عائلی اختلافات کی یکسوئی مقامی سطح پر ہونی چاہیئے۔ ہر محلہ میں بااثر اور دیندار افراد پر مشتمل کمیٹیاں قائم کی جائیں جہاں ان مسائل کو رجوع کرتے ہوئے حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا حمید الدین عاقل ؒ نے 60 سال قبل ملی بیت المال قائم کیا تھا جو امارت ملت اسلامیہ کا ایک شعبہ ہے۔ اس کا مقصد امت میں بے راہ روی کا خاتمہ اور پسماندہ، غریب خاندانوں کی مالی مدد ہے۔ حالیہ لاک ڈاؤن اور آفات سماوی میں ملی بیت المال کے ذریعہ ضرورتمندوں کی مدد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں جہیز کا مانگنا اور جوڑے کی رقم کا لینا سخت گناہ کا باعث ہے۔ انہوں نے مسجد میں نکاح تو کیا جارہا ہے لیکن بعد میں بیانڈ باجے کے ساتھ شادی خانوں میں ڈِنر کا اہتمام شریعت کے خلاف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس طرح کی کسی بھی شادی کی تقریب میں نہ ہی خطبہ نکاح پڑھیں گے اور نہ ہی شرکت کریں گے۔ انہوں نے شادی خانوں میں ہونے والی تقاریب نکاح کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور ملت کے تمام علماء و مشائخ سے اپیل کی کہ وہ بھی غیر شرعی تقاریب کا بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شادی کے موقع پر کھانے کے اہتمام کے خلاف ہیں اور گذشتہ 12 برس سے نکاح کے کسی بھی کھانے میں شریک نہیں ہوئے۔ مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ اگر جوڑے اور جہیز کی لعنت کا خاتمہ نہیں کیا گیا تو احمدآباد کی مسلم لڑکی کی طرح خودکشی کے واقعات پیش آئیں گے۔ مولانا نے کہا کہ صرف 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین کے حقوق کی بات کرنا کافی نہیں ہے۔ خواتین کا ادب و احترام ہر وقت لازم ہے۔ یوم خواتین کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم خواتین کو اسلامی شرائط و احکام سے آزاد کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں خواتین کیلئے پردے کی پابندی رکھی گئی ہے جو درحقیقت خواتین کی عفت کی مکمل حفاظت ہے۔ شرعی حدود میں رہتے ہوئے دینی و سماجی مفید علم حاصل کرنے پر اسلام نے کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں میں خواتین کے ساتھ حسن سلوک کریں اور شادی کے موقع پر جہیز اور جوڑے گھوڑے کی لعنت کو ختم کریں۔